خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 280 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 280

خطبات ناصر جلد اول ۲۸۰ خطبہ جمعہ ۱۰ جون ۱۹۶۶ء اس لحاظ سے الپر کے معنی یہاں یہ ہوں گے ہر قسم کے فساد سے پاک ہونا اور ہر قسم کے حقوق اور واجبات پوری اطاعت کے ساتھ ادا کریں۔پس فرما یا حقیقی نیکی یہ نہیں کہ تم نمازوں کی ادائیگی کے وقت مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرو۔یا ان بشارات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں قرآن مجید میں دی ہیں کہ مشرق و مغرب کے تمام ممالک پر تمہارا قبضہ ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہو جائیں گے اینَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ (البقرۃ : ۱۱۶) کہ جس طرف تم رُخ کرو گے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت اور اس کے ملائکہ کی فوج کو اپنی امداد کے لئے پاؤ گے۔تو فرمایا ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے تم مشارق اور مغارب کی طرف نکلو یا عبادت کی غرض سے تم مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرو تو محض یہ بات وہ نیکی نہیں جس کا تمہارا رب تم سے تقاضا کرتا ہے۔فرما یا ولكن البر ( اور یہاں البر کا لفظ دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔) مَنْ آمَنَ باللہ کہ ہر قسم کے مفاد سے پاک اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پوری اطاعت اور فرمانبرداری سے ادا کرنے والا وہ ہے جو ایمان باللہ کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو۔یعنی علی وجہ البصیرۃ خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہو اور اس کی ذات اور صفات میں کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرا تا ہو اور یقین رکھتا ہو کہ صحیفہ فطرت صحیحہ انسانیہ پر اس کی صفات کا انعکاس ہے اور تَخَلَّقُوْا بِأَخْلَاقِ اللَّهِ ہی سب نیکی ہے اور اسلمتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ (البقرة: ۱۳۲) کا نعرہ لگاتے ہوئے فنافی اللہ کے سمندر میں اپنی ذات کو غرق کر دینا ہی سچی اور صحیح اور حقیقی اطاعت ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں نیکی کی اصل صفت کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ ہے مَنْ آمَنَ ہاللہ یعنی نیک وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہے اور کہ وہ واحد یگانہ ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور وہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ اس زندگی کے ساتھ تمہاری حیات ختم نہیں ہوگی بلکہ حشر کے روز پھر تمہیں اکٹھا کیا جائے گا ضرور پورا ہوگا اور اس روز ہم اپنے اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور وہ بھی یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو اس کا رخانہ علت و معلول میں آخری مخلوق علت قرار دیا ہے اور اپنے اور مخلوق کے درمیان بطور واسطہ کے قائم کیا ہے اور وہ یہ بھی ایمان لاتا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ عَلَامُ الْغُيُوبِ ہے اور انسان کی