خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 268 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 268

خطبات ناصر جلد اول ۲۶۸ خطبہ جمعہ ۲۰ مئی ۱۹۶۶ء جس رنگ میں یہ اعتراض کیا گیا اور جس رنگ میں اس الہام کا مضحکہ اڑایا گیا۔وہ ہمارے لئے قابل تعجب بات نہیں۔اللہ تعالیٰ پر قربان جائیں وہ خود فرماتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا اللّ كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (لیس: ۳۱) کہ جب کبھی میرا کوئی بندہ آ کر یہ کہتا ہے کہ مجھے خدا نے بھیجا ہے اور خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنا میرا اولین مقصد ہے تو اس کی قوم اس کو پہچانتی نہیں بلکہ استہزاء اور تحقیر سے کام لیتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ زبردست نشانوں کے ساتھ اس کی سچائی کو ثابت کرتا ہے۔کتنا ز بر دست نشان ہے کہ ۶۹ - ۱۸۶۸ مین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قادیان میں بھی جاننے والے بہت کم تھے۔لیکن حضور کے دل میں فنا فی اللہ کا ایک بیچ تھا جسے علام الغیوب خدا دیکھ رہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اس شخص نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اپنے مال کا ہر پیسہ میری راہ میں خرچ کرنا ہے۔وہ اپنے لئے کچھ نہیں چاہتا کیونکہ اس نے اپنے اوپر کی فنا وارد کر لی ہے اور میری توحید کے لئے پورے طور پر مر چکا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تجھے اٹھاؤں گا اور تجھے برکت دوں گا اور اتنی برکت دوں گا کہ سننے والے اسے تسلیم نہ کریں گے اور نہ ہی اس پر ایمان لائیں گے۔ایک شخص جس کو دنیوی وجاہت بھی حاصل نہیں بلکہ اس کے گھر والے بھی اس کی پرواہ نہیں کرتے اور وہ ایسے حالات میں زندگی گزار رہا ہے کہ گویا وہ ان کے بچے کچے ٹکڑوں پر گزارہ کر رہا ہے۔اسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تجھے ایسے مقام پر پہنچاؤں گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔کیا یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی نہیں ؟؟؟ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس الہام کی پہلی چمکا ر اس وقت ظاہر ہوئی ہے۔پہلی چمکا اس لئے کہ اس کے کئی اور جلوے بھی ظاہر ہوں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ۔اور یہ پہلی چمکار افریقہ کے ایک ایسے ملک میں ظاہر ہوئی کہ جس کا الہام کے وقت کوئی وجود ہی نہ تھا۔پہلے خدا تعالیٰ نے وہ ملک بنایا پھر اسے آزادی بخشی پھر ایک احمدی کو اس کا سر براہ بنایا۔اور پھر اس کے دل میں یہ خواہش پیدا کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی تبرک اسے مل جائے۔اگر چہ وہ