خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 250
خطبات ناصر جلد اول ۲۵۰ خطبہ جمعہ ۱۳ رمئی ۱۹۶۶ء اور رفعتوں سے کچھ غذا حاصل کر کے بندہ کے لئے اس زندگی میں رضائے الہی کی جنت کے حصول کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ بداعتقادات بد عملیوں کو جنم دیتے ہیں۔اور یہ ایک ایسا شجرہ خبیثہ ہوتا ہے۔جس کی جڑیں فروتنی کی زمین میں قائم ہونے کی بجائے غرور، خود پسندی، اباء اور استکبار کے فوق الارض میں لٹکی ہوئی اور معلق ہوتی ہیں اور غضب الہی اور قہر خداوندی کے زلازل اسے متزلزل رکھتے ہیں اور اسے کوئی قرار نہیں ہوتا۔مَا لَهَا مِنْ قرارٍ (ابراهیم : ۲۷) اور بداعتقاد اور بداعمال انسانوں کے لئے قرب الہی کی راہیں اور آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جاتے اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ابدی جنتوں کے وہ مستحق نہیں ٹھہرتے اسی لئے اسلام نے فروتنی ، تواضع اور عبودیت پر بہت زور دیا ہے اور غرور ، خود پسندی اور تکبر سے بڑی سختی سے روکا ہے اور جیسا کہ میں نے اپنے ایک پہلے خطبہ میں بھی احباب کو اس طرف توجہ دلائی تھی۔غرور اور استکبار کے نتیجہ میں جو گمراہیاں ، ضلالتیں ، اندھیرے اور ظلم پیدا ہوتے ہیں۔ان کا قرآن کریم میں تفصیل سے ذکر آتا ہے۔میں اس وقت ان میں بعض کی طرف احباب جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی تمام راہیں تکبر کے چوراہے سے پھٹتی ہیں اور اس شجرہ خبیثہ کی جڑیں استکبار کے فوق الارض میں معلق ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَسْتَكْبِرُونَ - وَ يَقُولُونَ أَبِنَّا لَتَارِكُوا الهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ - (الصفت : ۳۷،۳۶) - یعنی جب کبھی ان سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں صرف وہی پرستش کے لائق ہے انسان کو صرف اسی کے سامنے عاجزی اور انکسار کے ساتھ جھکنا چاہیے۔وہی تمام فیوض کا منبع ہے صرف اسی سے فیض حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے وہی تمام زندگی اور حیات اور زندگی کے تمام لوازمات کا سر چشمہ ہے کسی قسم کی کوئی زندگی اور حیات اس کے سوا کسی اور جگہ سے حاصل نہیں کی جاسکتی يَسْتَكْبِرُون تو آگے سے وہ اپنے کو صاحب عظمت اور صاحب جبروت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں۔ہم میں بڑی عظمت پائی جاتی ہے، ہم بڑے لوگ ہیں ، ہم صاحب جبروت ہیں، ہمیں خدائے واحد کی ضرورت نہیں کیونکہ جو الہ ہم نے بنائے ہیں وہ