خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 249 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 249

خطبات ناصر جلد اول ۲۴۹ خطبہ جمعہ ۱۳ رمئی ۱۹۶۶ء شرک کی تمام راہوں سے بچنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ کسی قسم کا تکبر بھی ہمارے دلوں میں پیدا نہ ہو خطبه جمعه فرموده ۱۳ رمئی ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔قرآن کریم نے کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ سے دی ہے اور شجرہ طیبہ وہ ہوتا ہے جس کے اندر ایسی استعداد میں ہوں کہ وہ اچھی طرح نشو و نما پا سکے اور اچھے پھل دے سکے اور پھر اسے لگایا بھی اچھی زمین میں گیا ہو اور اس کی جڑیں مضبوطی کے ساتھ اس زمین میں قائم ہوں اور ہر ممکن غذادہ زمین سے لے رہا ہو۔اسی طرح کلمہ طیبہ کی جڑیں بھی فروتنی عاجزی، انکسار اور تواضع کی زمین میں مضبوطی سے قائم ہوتی ہیں۔یا درکھنا چاہیے کہ پاک کلام سے پاک اعتقاد پیدا ہوتا ہے اور پاک اعتقاد سے اعمالِ صالحہ جنم لیتے ہیں اور ہر عمل صالح نیستی کے اقرار کو چاہتا ہے اور عاجزانہ دعاؤں کے ذریعہ اس کا رفع إلَى السَّمَاءِ ہوتا ہے اور اپنے بندہ کی عاجزی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ اس کی بلندی کے سامان پیدا کرتا ہے۔اگر عاجزی اور انکسار کی بجائے اباء اور استکبار ہو تو بظاہر اچھے اور نیک اعمال بھی بندہ کے منہ پر مارے جاتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول نہیں ہوتے اور ایسے درخت کو اللہ تعالیٰ کے فضل اس کی رحمت اور اس کی برکت کے پھل نہیں لگتے اور نہ ہی اس کی شاخیں صفات باری کی بلندیوں