خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 247
خطبات ناصر جلد اول ۲۴۷ خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۶۶ء سمجھتا ہوں کہ آپ میں سے کسی کے پاس وہ الفاظ ہوں گے جن سے ہم کما حقہ اپنے رب کا شکریہ ادا کر سکیں۔میں نے یہ بھی سوچا کہ مجھے آپ کے مقابلہ میں کوئی بزرگی یا برتری حاصل نہیں لیکن جس رب عظیم نے اس خاکسار نابکار کو خلافت کی کرسی پر بٹھایا ہے اسی قادر و توانا نے آپ کے دلوں میں میرے لئے محبت پیدا کی میری زبان آپ کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور آپ میری آواز کوسن کر اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مجنونانہ طور پر اپنے دینی کاموں میں لگ جاتے ہیں جیسا کہ باہر سے آنے والی بہت سی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے وہ لکھتے ہیں کہ جب آپ کا خطبہ یہاں پہنچا تو تمام عہدیدار مجنونانہ طور پر اپنے کام میں لگ گئے اور کوشش کی کہ بجٹ کے پورا ہونے میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔اسی طرح بعض افراد نے جن کے ذمہ بڑی بڑی رقوم واجب الادا تھیں تنگی برداشت کر کے وہ رقوم ادا کر دیں اس طرح انہوں نے جماعت سے تعاون کیا اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو خصوصاً ان عہدیداروں کو جنہوں نے اس عرصہ میں بہت محنت اور بڑی تگ و دو سے کام لیا اور جماعت میں احساس ذمہ داری کو بیدار کیا ہے۔جزاء خیر دے اور اپنی رضا سے نوازے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے سورہ تغابن کی آیات میں بڑی وضاحت سے فرمایا ہے حقیقی اور کامل فلاح انہیں حاصل ہو اور اس دنیا کی حسنات سے بھی انہیں نوازے اور آخرت کی حسنات بھی زیادہ سے زیادہ ان کے حصہ میں آئیں۔میں نے پہلے بھی دعا کی ہے اور آئندہ بھی کروں گا آپ بھی ایسے سب دوستوں کے لئے دعا کریں جنہوں نے جماعت کے بوجھ کو اُٹھایا کہ اللہ تعالیٰ انہیں بہتر سے بہتر جزاء خیر دے اور جیسا کہ اس نے جماعت کو ان نامساعد حالات میں بھی یہ توفیق دی ہے کہ مالی قربانی کے میدان میں اس کا قدم پیچھے ہٹنے کی بجائے آگے ہی بڑھا ہے۔آئندہ بھی محض اس کے فضل اور احسان سے دنیا کے ہر ملک اور عمل کے ہر میدان میں ہر چڑھنے والے دن اس کا قدم پہلے کی نسبت آگے ہی