خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 231 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 231

خطبات ناصر جلد اول ۲۳۱ خطبہ جمعہ ۱/۲۲ پریل ۱۹۶۶ء میں تمام جماعتوں کو یقین دلاتا ہوں کہ کمزوروں کی کمزوری کے نتیجہ میں آپ کی گرانٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا بشرطیکہ آپ کی غفلت کی وجہ سے پہلے مضبوط لوگ کمزور نہ ہو جا ئیں آپ اس خیال سے کہ اگر بجٹ صحیح بنا اور آمد پوری نہ ہوئی تو ہماری گرانٹ پر اثر پڑے گا جو خطرناک غلطی کر رہے ہیں آئندہ ہرگز نہ کریں۔پس بجٹ پورا بنا ئیں اور حتی الوسع اسے پورا کرنے کی کوشش بھی کریں اگر آپ کا چندہ ان دوستوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جنہوں نے سال گزشتہ میں چندے ادا کئے تھے اس سال بھی پورا ہو جائے گا تو کل چندہ کی فیصدی اگر پوری نہ بھی ہو تو بھی آپ کو گرانٹ مل جائے گی اس لئے بغیر کسی خوف وخطر کے آپ صحیح بجٹ بنا ئیں۔دراصل اس وجہ سے کہ صحیح بجٹ نہیں بنتا ہمارے نئے احمدیوں کی تربیت میں نقص واقع ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں کو یہ تو فیق بھی حاصل نہ تھی کہ وہ خدا تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر دو آنے بھی خرچ کریں۔آپ کے ذریعہ ایک حرکت شروع ہوئی اور محبت الہی اور محبت رسول جو بظا ہر مٹ چکی تھی یا غفلت کے پردوں کے نیچے دبی ہوئی تھی اُبھرنا شروع ہوئی۔پہلا جلوہ اس روحانی زندگی کا یا روحانی حرکت کا جوان وجودوں میں نظر آیا وہ یہی ہے کہ کسی نے ایک چونی چندہ دے دیا کسی نے اٹھنی چندہ دے دیا کسی نے روپیہ اور کسی نے دوروپے اور اس وقت کے حالات کے زیر نظر دلوں کی یہ اتنی بڑی تبدیلی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان لوگوں کے نام اپنی کتب میں درج کر کے ان کے نام کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ایک فعال اور زندہ جماعت پیدا ہو چکی ہے اس لئے جو لوگ نئے نئے آکر اس میں شامل ہوتے ہیں ان پر پرانے مخلصین کو بعض دفعہ غصہ آتا ہے کہ یہ لوگ چندہ کم کیوں دیتے ہیں۔حالانکہ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی اپنی حالت یا ان کے باپ اور دادا کی حالت یہ تھی کہ چونی خرچ کر کے قیامت تک کی زندگی حاصل کر لی۔ٹھیک ہے کہ ہم آپ علیہ السلام کے فیض اور آپ کے خلفاء کی روحانی برکات کے نتیجہ میں زیادہ چست ہو گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں قربانیوں کے لئے زیادہ ہمت دیتا چلا جاتا ہے لیکن