خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 229 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 229

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۲۹ خطبہ جمعہ ۱/۲۲ پریل ۱۹۶۶ء قریباً پانچ ہزار تھی جو اب کم ہوتے ہوتے ۲۴ سوتک رہ گئی ہے۔کیونکہ جو پچاس، ساٹھ اور ستر سالہ احمدی اس وقت دفتر اول میں شامل ہوئے تھے۔ان میں سے بہت سے اپنے مولیٰ کو پیارے ہو گئے۔اس طرح ان کی تعداد گھٹتی رہی۔یہ ایک ایسی بات ہے جو واضح تھی اور یہ بھی واضح تھا کہ غلبہ اسلام کی جو مہم تحریک جدید کے ذریعہ جاری کی گئی ہے وہ وقتی نہیں بلکہ قیامت تک جاری رہنے والی ہے اس لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دفتر دوم کی بنیا د رکھی۔جب ۱۹۴۴ء میں دفتر دوم جاری کیا گیا تو پہلے سال اس کی آمد صرف ۷۲۴، ۵۲ روپے تھی اور بیس سال بعد یعنی ۱۹۶۳ء میں اس کی ۹۰،۰۰۰، ۲ روپے ( دولاکھ نوے ہزار روپے ) تک پہنچ گئی۔کیونکہ شروع میں بہت سے ایسے نوجوان اس میں شامل ہوئے جنہیں صرف جیب خرچ مل رہا تھا اور معمولی چندہ ادا کر کے ثواب حاصل کرنے کی خاطر وہ اس میں شامل ہوئے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر فضل فرما یا وہ تعلیم سے فارغ ہو کر کام پر لگ گئے اور ا اپنی دنیوی ذمہ داریوں کو نبھانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک احمدی کی ذمہ داریوں کو بھی نبھانا شروع کیا۔اس طرح ترقی کرتے کرتے ۶۳ء میں ان کا چندہ باون ہزار سے دولاکھ نوے ہزار تک پہنچ گیا۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں دفتر اول میں شریک ہونے والوں کی تعداد پانچ ہزار تھی اور دفتر دوم میں شامل ہونے والوں کی تعداد قریباً ہمیں ہزار تک پہنچ چکی ہے۔بہر حال دفتر اول کے مقابلہ میں یہ بہت بڑی تعداد ہے۔اگر دس سال کے بعد ایک اور دفتر کھولا جاتا تو ۱۹۵۴ء میں دفتر سوم کا اجراء ہونا چاہیے تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی کسی خاص مشیت یا ارادہ کی وجہ سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ۱۹۵۴ء میں دفتر سوم کا اجراء نہیں فرمایا۔۱۹۶۴ء میں دفتر دوم کے بیس سال پورے ہو جاتے ہیں اس وقت حضرت مصلح موعودؓ بیمار تھے اور غالباً بیماری کی وجہ سے ہی حضور کو اس طرف توجہ نہیں ہوئی کیونکہ امام کی بیماری کے ساتھ ایک حد تک نظام بھی بیمار ہو جاتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک جدید کی طرف سے بھی حضور کی خدمت میں اس کے متعلق لکھا نہیں گیا۔میں چاہتا ہوں کہ اب دفتر سوم کا اجراء کر دیا جائے لیکن اس کا اجراء یکم نومبر ۶۵ ء سے شمار کیا جائے گا۔کیونکہ تحریک جدید کا سال یکم نومبر سے شروع ہوتا ہے