خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 228 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 228

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۲۸ خطبہ جمعہ ۱/۲۲ پریل ۱۹۶۶ء جنہوں نے قرآن کریم کی تعلیم سے منہ موڑ کر عیسائیت کی آغوش میں دنیا کی آسائشیں اور دنیا کے آرام ڈھونڈے تھے جیسے کہ مولوی عمادالدین جو مسجد (آگرہ) کے امام اور خطیب تھے مسلمانوں سے نکل کر عیسائیوں میں شامل ہو گئے تھے اور ان کا یہ خیال تھا کہ عنقریب ہی وہ وقت آنے والا ہے کہ اگر ہندوستان میں کسی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گی کہ وہ کسی مسلمان کو دیکھے تو اس کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکے گی اور ہندوستان میں اسے کوئی مسلمان بھی نظر نہیں آئے گا سب مسلمان عیسائی ہو جا ئیں گے۔اس زبر دست حملہ اور ان خواہشات کو دیکھ کر جو عیسائی مناد کے دل میں گدگدی لے رہی تھیں۔اپنے دین کی حفاظت کے لئے اور اپنی توحید کی خاطر غیرت دکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور عیسائیت کے خلاف آپ کو اس قدر زبر دست دلائل براہین اور نشانات اور معجزات عطا کئے کہ ان کے ذریعہ عیسائیت کا حملہ ہر میدان میں آہستہ آہستہ رکنا شروع ہوا اور جہاں جہاں بھی احمدی پہنچے وہاں نہ صرف یہ کہ عیسائیت کا حملہ رک گیا بلکہ عیسائیت کے خلاف جوابی روحانی حملے شروع ہو گئے کہ عیسائیوں کو مجبوراً آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا پڑا اور اب تک پیچھے ہٹتے جارہے ہیں۔اس روحانی مہم کو تمام اکناف عالم میں چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے منشا اور اس کے القا سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نومبر ۱۹۳۴ء سے تحریک جدید کا اجرا کیا تھا۔دوست جانتے ہیں کہ اس تحریک کے ذریعہ دنیا کے بہت سے ممالک میں عیسائیت کا زبردست ، خوشکن اور کامیاب مقابلہ کیا جا رہا ہے۔پس حضور نے نومبر ۱۹۳۴ء میں یہ تحریک جاری فرما کر مالی قربانیوں کا جماعت سے مطالبہ فرمایا۔پہلا مطالبہ ۲۷ ہزار روپے کا تھا لیکن اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والی اس جماعت نے وقت کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے قریباً ۹۸ ہزار روپیہ حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔اس کے بعد حضور نے دفتر دوم کا اجراء فرما یا اس سے پہلے جن لوگوں نے اس تحریک میں حصہ لیا تھا ان کو دفتر اول قرار دیا۔جواب تک جاری ہے دفتر اول میں حصہ لینے والوں کی تعداد