خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 208 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 208

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۰۸ خطبہ جمعہ ۸ ا پریل ۱۹۶۶ء انسانی عقل میں قطعاً نہیں آسکتا !!! اس سلسلہ میں میں یہ کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض جگہ سے یہ شکایت موصول ہوئی ہے کہ گو ہماری یہ جماعت خدام الاحمدیہ کے سپرد نہ کی گئی تھی لیکن انہوں نے جماعتی انتظام سے علیحدہ قرآن کریم سکھانے کا اپنے طور پر انتظام کر دیا ہے اور وہ جماعت سے تعاون نہیں کر رہے۔اگر ایک مقام پر بھی ایسا ہوا ہو تو یہ بہت افسوسناک ہے خدام کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو طریق انہوں نے اختیار کیا ہے وہ درست نہیں جن جگہوں میں قرآن کریم کے پڑھانے کا کام خدام الاحمدیہ کے سپرد کیا گیا ہے مثلاً لا ہور اور ضلع سیالکوٹ کی جماعتیں۔وہاں جماعتی نظام سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ مجلس خدام الاحمدیہ سے پورا تعاون کریں گے اور جس جگہ یا علاقہ میں قرآن کریم پڑھانے کا کام مجلس انصاراللہ کے سپر د کیا گیا ہے اس علاقہ کی جماعتوں سے میں امید اور توقع رکھتا ہوں کہ وہ مجلس انصاراللہ سے پورا پورا تعاون کریں گی اور وہ مقامات، جماعتیں یا اضلاع جہاں قرآن کریم کی تعلیم کا کام جماعتی نظام کے سپرد کیا گیا ہے وہاں جہاں تک قرآن کریم پڑھانے کا سوال ہے خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے کیونکہ یہ کام ان کے سپر دکیا ہی نہیں گیا۔تمام دوستوں کو انصار میں سے ہوں یا خدام میں سے ، جوان ہوں یا بڑی عمر کے یہ بنیادی بات یا درکھنی چاہیے کہ احمدی ہونے اور انصار یا خدام کے رکن ہونے میں بڑا فرق ہے۔ایک احمدی پر اللہ تعالیٰ نے بڑی اہم اور بڑی وسیع ذمہ داری ڈالی ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود یہ السلام کے وقت میں حضور کے منشا اور ارشاد کے ماتحت اور پھر بعد میں حضور کے خلفاء کے منشا اور ارشاد کے ماتحت تمام دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے جو سکیمیں تیار کی جائیں ہر احمدی اپنا سب کچھ قربان کر کے ان سکیموں کو کامیاب کرنے کی کوشش کرے تا کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ جو آسمان پر ہو چکا ہے کہ وہ اسلام کو اس زمانہ میں جو مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہے تمام ادیان باطلہ پر غالب کرے گا۔اس فیصلے کا نفوذ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جسے ہماری کوشش جذب کرے اس دنیا میں بھی ہمیں جلد تر نظر آ جائے۔یہ الہی فیصلہ جو آسمان پر ہو چکا ہے زمین پر نافذ ہو کر رہے گا۔دنیا کی کوئی طاقت اسے روک