خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 196 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 196

خطبات ناصر جلد اول ۱۹۶ خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۶۶ء لئے اس کے سامنے جھکو اور اس جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کے لئے اس کے ذریعہ آج گاڑا ہے تا تم اپنی اس زندگی میں بھی کامیاب ہو اور اُخروی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور فضلوں کو پاسکو۔تو صرف یہی پیغام پہنچانے کے لئے ہمیں ایک دفعہ ۹۰ کروڑ آدمیوں کے لئے ایک ورقہ اشتہار دینا پڑے گا اور اس مختصر اشتہار پر جس کی تعداد ۹۰ کروڑ ہو گی کتابت و طباعت اور کاغذ کے خرچ کے علاوہ صرف پوسٹیج کے لئے (یعنی اس کی ترسیل کے لئے ) جو ٹکٹ لگیں گے ہمیں ان کے لئے چھ کروڑ تیس لاکھ روپے کی ضرورت ہوگی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان اشتہارات کو ڈاک کے ذریعہ بھیجنے کے لئے چھ کروڑ تیس لاکھ روپیہ ہو تب کہیں جا کر ہم اس بات میں کامیاب ہو سکتے ہیں کہ ہر انسان کے ہاتھ میں صرف یہ پیغام پہنچا دیں کہ خدا تعالیٰ کا ایک مامور مبعوث ہو چکا ہے۔تم دین و دنیا کی فلاح اور حسنات کے حصول کے لئے اس کی آواز پر کان دھرو۔ظاہر ہے کہ اتنے ذرائع ہمیں میسر نہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس کام کے لئے ہمیں صرف اس رقم کی ہی ضرورت نہیں بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی دقتیں ہیں جو اس مقصد کے حصول کی راہ میں حائل ہیں مثلاً دنیا کا ایک بڑا حصہ ایسا بھی ہے جو ہماری بات سننے کے لئے تیار نہیں۔بلکہ جب اسے بات سنائی جائے تو وہ ہماری بات سننے کی بجائے ہمیں گالیاں دینے پر اتر آتا ہے پھر دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ایسا بھی ہے کہ جو ظاہری اخلاق کا مظاہرہ کر کے ہماری بات تو سن لیتا ہے لیکن اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی بات سن لیں۔انہیں بات کرنے سے منع نہ کریں لیکن ہمیں اس بات کی بھی ضرورت نہیں کہ پوری توجہ سے ان کی بات سنیں پھر جو لوگ ہماری بات کو سنتے ہیں اور توجہ سے بھی سنتے ہیں ان میں سے بھی بڑے حصہ کے دلوں کی کھڑکیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی صداقت کے قبول کرنے کے لئے ان کی شامت اعمال کی وجہ سے کھلتی نہیں۔غرض ہماری راہ میں بڑی مشکلات ہیں اگر ہم محض اپنی تدابیر پر بھروسہ کریں تو ہماری ناکامی یقینی ہے۔اس لئے ہماری عقل اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ کامیابی کے جو وعدے اللہ تعالیٰ نے ہماری