خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 193 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 193

خطبات ناصر جلد اول ۱۹۳ خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ء پھر صلوۃ کے ایک معنی رحمت کے ہیں اور ان معنوں میں یہ لفظ خدا تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتا ہے 'صلی اللہ “ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازے۔ہمارے کاموں میں برکت ڈالے۔ہم پر احسان کرے اور ہمارے گناہوں کو معاف کر دے۔( استغفار کے معنی بھی صلوۃ کے اندر آ جاتے ہیں ) پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ایک طرف اپنی تد بیر کو اپنے کمال تک پہنچا دو اور جو کچھ تم کر سکتے ہو وہ کر گز رو اور پھر ہمارے پاس آ جاؤ اور کہو اے خدا! جو کچھ تو نے ہمیں دیا تھا وہ ہم نے تیری راہ میں قربان کر دیا ہے مگر وہ اتنا کم ہے کہ دنیا کی طاقتوں کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ہم اگر اپنا سارا مال بھی تیری راہ میں قربان کر دیں تو بھی ہم امریکہ کی دولت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اگر ہم میں سے ہر ایک احمدی فرد لنگوٹا کس لے اور بھوکا رہنے کے لئے تیار ہو جائے اور اپنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دے تب بھی ہم روس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔پس خدا تعالیٰ نصیحت فرماتا ہے کہ میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ جتنی دولت روس کے پاس ہے اتنی دولت تم میری راہ میں خرچ کرو اور نہ میرا تم سے یہ مطالبہ ہے کہ جتنی دولت امریکہ اور انگلستان کے پاس ہے یا جتنی دولت دوسرے ممالک کے پاس ہے اتنی ہی تم میری راہ میں خرچ کرو میں تم سے صرف یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ جتنا کچھ میں نے تمہیں دیا ہے اُسے میری راہ میں خرچ کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہو جب امام وقت کی آواز آئے تو تم اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار رہو اور جب تم یہ سب کچھ کر گز رو تو میرے پاس آؤ اور کہو ہم نے تیرے ارشاد کے ماتحت جو کچھ بھی ہمارے پاس تھا تیری راہ میں قربان کر دیا ہے یا قربان کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن ہماری یہ قربانیاں ان طاقتوں کے ساتھ تو ٹکر نہیں لے سکتیں جن کو تو نے دنیا میں قائم رہنے کی اجازت دی ہے تو اے ہمارے رب! ہم جو کچھ کر سکتے تھے وہ کر دیا ہے۔ہم انسان ہیں ہم میں کمزوریاں بھی ہیں۔ہم سے خطائیں بھی سرزد ہوتی ہیں اس لئے ہم تیرے پاس آئے ہیں۔ہم تیری مغفرت کی چادر کے متلاشی ہیں تو ہمیں اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لے۔پھر ہم چاہتے ہیں کہ تو ہم پر احسان کرتے ہوئے ہمیں اپنی رحمت سے نوازے ہمارے کاموں میں برکت دے اور ہمیں محض اپنے فضل سے اس مقصد میں کامیابی عطا کرے جس کے لئے تو نے