خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 188
خطبات ناصر جلد اول ۱۸۸ خطبہ جمعہ ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ء ہم غفلت کی نیند سو جائیں۔شیطان ہم پر اس طرح اثر انداز ہو کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو بھلا دیں اور جو عہد ہم نے اپنے رب سے باندھا ہے اسے چھوڑ دیں ہم میں سے تھوڑے ہیں جو اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ہم نے در حقیقت خدا تعالیٰ سے کیا عہد باندھا ہے۔اگر ہم اس عہد کا تجزیہ کریں اور اس پر غور کریں تو ہمارے سامنے یہ نظارہ آتا ہے کہ ایک طرف روس ہے، چین ہے اور دوسرے کمیونسٹ ممالک ہیں دوسری طرف مادہ پرست اقوام ہیں جو دعویٰ تو کرتی ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کو مانتی ہیں لیکن حقیقتاً خدا تعالیٰ پر ان کا کوئی ایمان نہیں ہے۔مثلاً امریکہ ہے، انگلستان ہے، فرانس ہے اور دیگر بہت سے ممالک ہیں۔اب ان میں سے اگر ہم ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ لیں تو مثلاً روس ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو دنیوی عقل عطا کی اور اس کو یہ توفیق عطا کی کہ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے دنیوی ترقیات کے میدان میں بہت بلند مقام حاصل کر لے جو اس نے حاصل کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو بڑی کثرت کے ساتھ مادی اسباب دیئے اور اس وقت وہ دنیا کی دیگر بڑی اقوام میں سے چوٹی کی ایک قوم سمجھی جاتی ہے بلکہ وہ اتنی زبردست ہے کہ جب وہ غرآئے تو تمام بنی نوع انسان کے دل دہل جاتے ہیں اس شخص کے دل سے بھی زیادہ جو جنگل میں جا رہا ہو اور اچانک اسے شیر کے غرانے کی آواز آئے لیکن اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اسے دین کی آنکھ عطا نہیں کی۔وہ (نعوذ باللہ ) خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کے نام کا مذاق اُڑاتی ہے بلکہ وہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ تمام دنیا سے خدا تعالیٰ کے نام کو ایک دن مٹا دیں گے۔پھر اس کے ساتھ ہی وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ کوئی شخص اس کے ملک میں جائے اور خدائے واحد سے انہیں متعارف کرائے۔حقیقتاً یہ اجازت نہ دینا بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کا ایک ثبوت ہے۔اگر واقعی خدا نہ ہوتا تو انہیں کس بات کا ڈر تھا۔وہ ہر ایک کو کہتے یہاں آؤ اور جو دلیلیں تمہارے پاس ہیں وہ ہمیں سناؤ ہمیں ان دلیلوں کے سنے میں کوئی عذر نہیں ہوگا کیونکہ ان کے زعم میں خدا تعالیٰ کے نہ ہونے کے جو دلائل ان کے پاس ہیں وہ ان دلائل سے کہیں زیادہ وزن رکھتے ہیں جو ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے دیئے جاسکتے ہیں۔بہر حال وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کوئی شخص وہاں جا کر خدائے واحد و یگانہ کی تبلیغ کرے۔اسلام کی اشاعت کے لئے کوشش