خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 172
خطبات ناصر جلد اول ۱۷۲ خطبہ جمعہ ۱۱/ مارچ ۱۹۶۶ء کرتے ہوئے وہ اپنی قرب کی راہیں اور اپنی رضا کے طریق انہیں سمجھاتا ہے اور ثواب کے دروازے ان پر کھولتا ہے۔پس یہی وہ چیزیں ہیں جو خدا تعالیٰ کی نظر میں پسند یدہ ہیں اور ان کا ذکر ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے اور قرآن کریم میں ہی مل سکتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہاں اس امر کی طرف متوجہ کیا ہے کہ تمہاری زبان تمہیں دوزخ کی طرف بھی لے جاسکتی ہے اور تمہاری زبان تمہیں میری رضا کی جنت کی طرف بھی لے جاسکتی ہے۔اس لئے تم اپنے قول اپنی باتوں اور اپنی نگاہ پر قابو رکھو اورا اپنی زبان کو آزاد نہ چھوڑ و بلکہ اگر تم میرے بندے بننا چاہتے ہو اگر تم میری اطاعت تذلل کے ساتھ کرنا چاہتے ہو، اگر تم میری وحدانیت کے قیام کی طرف متوجہ ہو، اگر تم میری صفات کے مظہر بننا چاہتے ہو، تو اپنی زبان پر وہی باتیں لاؤ جن کے زبان پر لانے کا قرآن کریم نے ارشاد فرمایا ہے۔قرآن کریم ایسی باتوں سے جو زبان پر لانی مناسب ہیں، بھرا پڑا ہے میں اس وقت ان کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ہاں مثال کے طور پر یہ ضرور بیان کروں گا کہ مثلاً قرآن کریم نے فرمایا ہے يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُونِ (ال عمران : ۱۰۵) یعنی میرے بندے معروف کا حکم دیتے ہیں نیز قرآن کریم فرماتا ہے کہ میرے بندے قولِ صادق پر ہی نہیں قولِ سدید پر کار بند ہوتے ہیں اور اس قسم کی سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں باتیں قرآن کریم میں ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ کہتا ہے تم اس طرح کہو اور بہت سی ایسی باتیں بھی ہیں جن کے متعلق وہ کہتا ہے ایسا نہ کہو کیونکہ یہ باتیں شیطان اور اس کی ذریت ہی کہا کرتی ہے اللہ تعالیٰ کے بندے ایسی باتیں نہیں کہا کرتے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کے بعد ایک چھوٹے سے فقرہ میں نفی والے حصہ کو بڑے حسین پیرایہ میں بیان کر دیا ہے۔چنانچہ وہ فرماتا ہے۔إِنَّ الشَّيْطنَ يَنْزَعُ بَيْنَهُمُ ایک شیطان تو معروف ہستی ہے یعنی ایک نظر نہ آنے والا وجود جو دلوں میں وسوسہ پیدا کر کے انسانوں کو خدا سے دور لے جاتا ہے انہیں غیر اللہ کی طرف بلاتا ہے اور ایک قسم شیطان کی وہ ہے جس کی ذریت انسان کی شکل میں دنیا میں بستی ہے اور شیطان کے