خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 171
خطبات ناصر جلد اول 121 خطبہ جمعہ ۱۱/ مارچ ۱۹۶۶ء اللہ تعالیٰ کو جو چیزیں پسند ہیں انہیں اختیار کرو اور اُسے جو امور نا پسند ہیں ان سے بچنے کی کوشش کرو خطبه جمعه فرموده ۱۱ / مارچ ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ سورہ بنی اسرائیل میں فرماتا ہے۔قُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَنَ يَنْزَعُ بَيْنَهُم بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوا مُّبِينًا - (بنی اسراءیل : ۵۴) یعنی ان لوگوں کو جو خدائے واحد کی خلوص اور تذلل کے ساتھ اطاعت کرنے والے اور صفات الہیہ کے مظہر بننے کے خواہشمند ہیں میرا پیغام پہنچا دو کہ وہ وہی بات کہا کریں جو سب سے زیادہ اچھی ہے اب کسی بات کا اچھا اور بُرا ہونا مختلف پہلوؤں سے ہوسکتا ہے۔بعض باتیں بعض لوگوں کے نزدیک اچھی ہوتی ہیں لیکن وہی باتیں بعض دوسروں کے نزدیک بُری ہو سکتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے عِبَادِی میں بندوں کو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور اس طرح اس سوال کا جو یہاں پیدا ہونا تھا خود ہی جواب دے دیا ہے اور وہ جواب یہ ہے جو میری نگاہ میں بھی احسن ہو اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کون سی چیزیں احسن ہیں۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں وہی چیزیں احسن ہیں جو اسے اچھی لگتی ہیں جنہیں وہ پسند کرتا ہے۔جن کو دیکھتے ہوئے اور اپنے بندوں پر رحم اور فضل