خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 165 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 165

خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء کو بھی ایسی جماعتیں عطا کرتا رہے گا جو بشاشت اور خوشی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں گی اور اس بشارت کو ہم ہر صدی اور ہر زمانہ میں پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ہماری جماعت کو ہی دیکھ لو۔اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم کیا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل ظل تھے۔اسی لئے آپ نے فرمایا ہے جوشخص مجھ میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں فرق کرتا ہے اس نے دراصل مجھے پہچانا ہی نہیں۔کیونکہ جس طرح ایک شخص کی تصویر لی جاتی ہے یا کسی تصویر کا چربہ اتارا جاتا ہے، اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان تمام صفات کو اپنے اندر سمیٹ لیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھیں اور اپنا سارا وجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں کلیتاً فنا کر دیا تھا اور کوئی بینا آنکھ ان دو وجودوں میں فرق نہیں کر سکتی۔بالکل اسی طرح جس طرح وہ آگ اور اس لو ہے میں فرق نہیں کر سکتی جو آگ میں پڑ کر خود آگ بن جاتا ہے حالانکہ وہ آگ نہیں ہوتا لو باہی ہوتا ہے لیکن اس میں آگ کی تمام خوبیاں اور صفات پیدا ہو جاتی ہیں اور دیکھنے والی آنکھ اسے آگ کا شعلہ ہی خیال کرتی ہے لیکن حقیقت اس کے سوا ہوتی ہے وہ آگ کا شعلہ نہیں لوہے کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے بالکل اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے نفس پر کامل اور مکمل فنا طاری کی اور اپنے وجود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں مدغم کر دیا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل ظل ہونے کی وجہ سے خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ کے ماتحت آپ نے بھی جماعت کے لئے مالی قربانیوں کے منصوبے تیار کئے۔آپ نے بھی جماعت سے قربانیاں لیں اور اس کی ایسے رنگ میں تربیت کی کہ وہ ہر موقع پر بشاشت کے ساتھ قربانیاں دیتی چلی آئی۔پھر آپ کے وصال کے بعد جو لوگ مقام خلافت پر فائز ہوئے ان کے زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس بشارت کو نمایاں طور پر پورا کیا۔حضرت مصلح موعودؓ کے زمانہ کو دیکھ لو آپ نے مختلف اوقات میں باوجود اس کے کہ جماعت پہلے مالی قربانیاں پیش کر رہی تھی۔اس کے سامنے کئی نئی سکیمیں رکھیں اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں پورا کرے اور ہم نے دیکھا کہ جماعت بشاشت اور خوشی کے ساتھ چھلانگیں لگاتی ہوئی آپ کی طرف دوڑی اور ہنستے ہوئے