خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 164
خطبات ناصر جلد اول ۱۶۴ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء پیش کر و۔تا تم اس مقصد کو حاصل کر سکو۔جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور جس کے حصول میں مدد دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسلام جیسے خوبصورت ،حسین ، کامل اور مکمل مذہب کو دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بھیجا ہے۔خُذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً میں خُذ امر کا صیغہ ہے اور اس کے پہلے مخاطب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ قیامت تک کے لئے ایک زندہ وجود ہیں اور وہ اس طرح کہ خدا تعالیٰ قیامت تک اپنی حکمت بالغہ سے آپ کے ایسے اظلال پیدا کرتا رہے گا۔(جیسا کہ وہ آج تک پیدا کرتا چلا آیا ہے ) جو آپ کی کامل اطاعت ، کامل محبت اور آپ میں کامل فنا ہونے کی وجہ سے گویا ایک طرح آپ کا ہی وجود بن جاتے ہیں۔پس اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اظلال کو بھی جو آئندہ پیدا ہونے والے تھے (اور ان میں مجددین، اولیا ءامت اور خلفائے راشدین بھی شامل ہیں اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہوا ہے کہ اُمت مسلمہ میں ہر وقت ایسے لوگ موجود رہتے ہیں جو آپ کی کامل متابعت اور فنا فی الرسول ہونے کی وجہ سے آپ کا ظل ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی وہ آپ کے ظل ہیں ) مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ تم اُمت مسلمہ کی ترقی کے لئے اور مومنوں کو روحانی بلند یوں تک پہنچانے کے لئے قربانیوں اور ایثار کے منصوبے تیار کرتے رہو اور ان کی ملکیوں میں سے ایک حصہ لے کر خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا ہمیشہ انتظام کرتے رہوتا وہ ان روحانی مدارج تک پہنچتے رہیں جن تک وہ اسلام کی اتباع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے نتیجہ میں پہنچ سکتے ہیں۔پھر خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ میں ایک بشارت بھی ہے اور وہ یہ کہ اسلام نے آزادی ضمیر پر بڑا زور دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے اور بار بار ہمیں فرمایا ہے کہ جبر سے حاصل کردہ اموال یا مجبور ہو کر دی جانے والی قربانیاں خدا تعالیٰ کی نظر میں کوئی قدر نہیں رکھتیں۔نہ وہ انہیں قبول کرتا ہے، اور نہ ان کے نتیجہ میں روحانی فیوض حاصل ہوتے ہیں۔پس اس آیت میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور پھر ایک حد تک آپ کے اظلال