خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 151 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 151

خطبات ناصر جلد اول ۱۵۱ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء ایک دور اور تسلسل قائم ہوجاتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اگرتم اللہ تعالیٰ کی راہ میں کچھ دیتے ہو تو وہ اسے بطور قرض کے لیتا ہے اور قرض دی ہوئی رقم خرچ نہیں سمجھی جاتی دیکھو اس دنیا میں بھی ایک بھائی دوسرے بھائی کو قرض دیتا ہے مثلاً ایک شخص کے پاس دس ہزار روپیہ ہے اس کا بھائی اسے کہتا ہے بھائی مجھے اس میں سے تین ہزار روپیہ بطور قرض حسنہ دے دو۔میں چند ماہ کے بعد اسے واپس کر دوں گا تو اب یہ تین ہزار روپے خرچ تو نہیں ہوئے اس کے پاس دس کا دس ہزا رہی رہا۔کیونکہ یہ تین ہزار بھی کچھ عرصہ کے بعد اسے واپس مل جائیں گے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچھ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہو وہ خرچ نہیں ہوتا۔نہ وہ ضائع ہوتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ نے قرض کے طور پر لیا ہے وہ اسے واپس کرے گا اور پھر اس شان سے واپس کرے گا جو ایک قادر اور رزاق خدا کے شایان شان ہے۔وَاللهُ يَقْبِضُ وَيَبْطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ میں اللہ تعالیٰ نے تین بڑے لطیف مضامین بیان کئے ہیں۔يَقْبِضُ وَيَبْطُ کے ایک معنی ہیں۔يَسْلُبُ قَوْمًا وَيُعْطِي قَوْمًا یعنی جسے چاہے غریب کر دیتا ہے اور اس کا مال لے کر دوسرے کو دیتا اور اسے امیر کر دیتا ہے۔دوسرے معنی یہ ہیں۔يَسْلُبُ تَارَةً وَيُعْطِي تَارَةً یعنی جب چاہے ایک شخص کا مال چھین لیتا ہے اور جب چاہے پھر اسے اموال عطا کر دیتا ہے۔تیسرے معنی قبض کے یہ ہیں۔تَنَاوُلُ الشَّيْءِ بِجَمِيعِ الْكَتِ گویا اس آیت میں يَقْبِضُ وَ يَبسُط اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان کی گئی ہے اور پہلے معنی کی رو سے اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا اظہار ایک بنیادی اقتصادی مسئلہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جسے اقتصادیات میں تقسیم پیداوار کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی ملک کی پیداوار آگے مختلف افراد کے ہاتھوں میں کس طرح پہنچے گی اور ملکی پیداوار کی تقسیم کے متعلق آزاد اقتصادیات میں بھی اور ایک حد تک بندھی ہوئی اور مقید اقتصادیات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک وقت تک ایک شخص جس چیز کو بھی ہاتھ لگاتا ہے سونا بن جاتی ہے لیکن پھر بغیر کسی ظاہری سبب اور وجہ کے اس شخص پر فراخی کی بجائے تنگی آجاتی ہے وہی شخص ہوتا ہے وہی سرمایہ ہوتا ہے۔وہی حالات ہوتے ہیں وہی کاروبار ہوتا ہے