خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 128
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۲۸ خطبہ جمعہ ۴ فروری ۱۹۶۶ء کریں گے لیکن عملی طور پر آپ کی کسی ہدایت پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔نہ دنیا ہمارے اس دعوی کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوگی اور نہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہمارا دعویٰ مقبول ہوگا کیونکہ آپ سے محبت کے دعوی کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم آپ کے ہر اشارہ پر اپنی جان دینے کے لئے ہر دم تیار رہیں۔جہاں بھی آپ کی کوئی خواہش نظر آئے ہم اسے پورا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ہمیں اس بات کی ضرورت نہ ہو کہ اس کی حکمت ہماری سمجھ میں آجائے یا اس کا فلسفہ ہمارے سامنے رکھا جائے۔اس کے منافعے ہمیں بتائے جائیں یا اس کے مضرات سے بچنے کی وجوہات کی طرف ہمیں متوجہ کیا جائے۔ہمارے لئے صرف اسی قدر کافی ہو کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہے اور ہم اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں چاہے اس رستہ میں ہمیں جان بھی قربان کرنی پڑے کیونکہ محبت کا تقاضا ہی یہی ہے۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تو کرتا ہے لیکن وہ آپ کی کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں تو آپ اُسے پاگل کہیں گے۔دنیا اس کی محبت کے دعوی کو تسلیم نہیں کرے گی۔کیونکہ آپ سے محبت کے دعویٰ کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم آپ کی ہر خواہش پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔پس جب ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرتے ہیں تو ہمیں آپ کی ہر خواہش کو پورا کرنا ہو گا۔آپ نے ہم سے کس بات کی خواہش کی ہے؟ آپ نے ہم سے یہ خواہش کی ہے کہ ہم قرآن کریم پر اسی طرح عمل کریں جس طرح آپ نے عمل کر کے دکھایا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب سوال کیا گیا کہ آپ کے اخلاق کیسے تھے۔آپ نے فرمایا:۔كَانَ خُلُقُهُ الْقُرآن آپ کے اخلاق کو دیکھنا ہو تو قرآن کریم کو پڑھ لو۔آپ کی ساری زندگی قرآن کریم کی ہی عملی تصویر ہے جو کچھ قرآن کریم نے کہا وہ آپ نے کر دکھایا گویا آپ نے اپنے الفاظ میں بھی ہدایت دے دی اور اپنے عمل سے بھی ہدایت دے دی۔غرض آپ کی ساری زندگی کے سانچہ میں اپنی زندگیوں کو ڈھالنا آپ کی محبت کا تقاضا ہے جس کا ہم آپ کی ذات مبارک کے متعلق دعویٰ