خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 123 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 123

خطبات ناصر جلد اول ۱۲۳ خطبہ جمعہ ۴ فروری ۱۹۶۶ء مسلمان اپنی زندگی کا نور حاصل کرتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جس طرف بھی ہم جائیں گے جب تک قرآن کریم کی مشعل ہمارے ہاتھ میں نہ ہوگی جب تک اس کا نور ہماری راہ نمائی نہ کر رہا ہو گا ہم صداقت اور بلندیوں کی راہوں پر گامزن نہیں ہو سکتے۔ہمارے لئے ایک لمبے عرصہ کے بعد قرآن کریم کی کھڑکیاں دوبارہ کھولی گئی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیش بہا اور قیمتی لعل و جواہر قرآن کریم سے نکال کر ہمارے سامنے پیش کئے ہیں۔اگر ہم اب بھی ان کی قدر نہ کریں تو ہم جیسی بد بخت قوم اور کوئی نہیں ہو سکتی۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ قرآن کریم کے علوم نہ صرف ہم خود دیکھیں بلکہ دوسروں کو بھی سکھائیں ( دوسرے لوگوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو نو احمدی ہیں اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ہماری نئی نسل کے طور پر ہم میں شامل ہوئے ہیں ) اگر ہم قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں اور اس بات پر یقین رکھیں کہ اس کے علوم کا خزانہ نہ ختم ہونے والا ہے تو جتنا زیادہ فکر اور تدبر ہم اس میں کریں گے اور شرائط کے ساتھ اور صحیح رنگ میں جتنی ہم دعا کریں گے، جتنی عاجزی اور انکسار کے ساتھ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے جھکیں گے اور اس سے مدد چاہیں گے، اتنے ہی زیادہ علوم ہمیں قرآن کریم سے حاصل ہوں گے اور ہوتے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ہمارا یہ فرض ہے کہ اب ہم اس نعمت عظمی کو ضائع نہ ہونے دیں تا وہ اندھیری راتیں جو پچھلے زمانہ میں اسلام پر گزری ہیں وہ آئندہ تا قیامت اسلام پر نہ آئیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ہمیں بار بار اس طرف متوجہ کیا تھا اور بڑے دکھ کے ساتھ آپ نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ ہم قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے کی طرف کما حقہ توجہ نہیں دے رہے۔میں بھی آپ لوگوں کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ قرآن سیکھو اور اس کے علوم حاصل کرو پھر اپنے بچوں کو بھی قرآن پڑھاؤ تا یہ نعمت ہماری ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہوتی چلی جائے اور وہ بلندیاں جو ہماری ایک نسل حاصل کرے۔ہماری آئندہ آنے والی نسلیں ان سے بھی بلند تر ہوتی چلی جائیں اور قرآن کریم کے علوم انہیں زیادہ سے زیادہ حاصل ہوتے چلے جائیں۔قرآن کریم سے اتنا پیار کرو کہ اتنا پیار تمہیں دنیا کی کسی اور چیز سے نہ