خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 114 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 114

خطبات ناصر جلد اول ۱۱۴ خطبہ جمعہ ۲۸/جنوری ۱۹۶۶ء ظاہری یا باطنی گناہ کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ اس سے ناراض نہ ہو جائے۔وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان اس قدر بلند ہے کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ میں اسے اپنے اعمال کے نتیجہ میں خوش کر سکتا ہوں۔پس خدا کا بندہ اپنے اعمال پر کبھی بھروسہ نہیں کرتا۔وہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی سمجھتا ہے کہ اس نے کچھ نہیں کیا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ممکن ہے اس کے اعمال میں کوئی ظاہری یا باطنی نقص رہ گیا ہو اور خدا تعالیٰ انہیں رڈ کر دے اور اس مضمون پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث بھی جو گزشتہ جمعہ میں نے دوستوں کو سنائی تھی۔بڑی وضاحت سے دلالت کرتی ہے لیکن اس خوف کے نتیجہ میں ایک مومن کے دل میں مایوسی نہیں پیدا ہونی چاہیے کیونکہ اس شخص کو جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ڈرتے زندگی گزار دیتا ہے خدا تعالیٰ نے بہت بڑی بشارت دی ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتِنِ (الرَّحْمن : ۴۷) یعنی وہ شخص جو اپنے دل میں خدا تعالیٰ کی بلندشان کو مڑ نظر رکھتے ہوئے ہر وقت اس کے خوف کا احساس اپنے دل میں رکھتا ہے۔اور سمجھتا ہے کہ میں اپنے عمل کا ایک تحفہ اپنے خدا کے حضور تو پیش کر رہا ہوں۔آگے اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے قبول کرے یا نہ کرے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے ہم ایسے شخص کو یہ بشارت دیتے ہیں کہ ہم اسے دو جنتیں دیں گے۔ان میں سے ایک جنت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو اس دنیا میں عطا کرتا ہے اور دوسری جنت وہ ہے جو اُخروی زندگی میں یعنی اس دنیا سے کوچ کر جانے کے بعد محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مومن کو نصیب ہوتی ہے۔غرض اس خوف کی وجہ سے جس کی تلقین خدا تعالیٰ کرتا ہے۔ہمارے دلوں میں مایوسی پیدا نہیں ہوتی اور نہ اسے پیدا ہونا چاہیے کیونکہ خوف اپنی جگہ پر قائم ہے اور امید ہے، اپنی جگہ پر قائم ہے۔گو ہمیں ڈرتے ڈرتے زندگی کے دن گزارنے چاہئیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی زندگی کے کسی لمحہ میں بھی ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مایوسی مومن کی علامت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کا فر کی علامت قرار دیا ہے۔جیسا کہ وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔إِنَّهُ لَا يَا يُعَسُ مِنْ رَّوحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ (يوسف: ۸۸)