خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 113
خطبات ناصر جلد اول ۱۱۳ خطبه جمعه ۲۸ جنوری ۱۹۶۶ء مومن ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہتا ہے لیکن اس کے دل میں مایوسی پیدا نہیں ہوتی خطبه جمعه فرموده ۲۸ جنوری ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔پچھلے دو دن میری طبیعت کچھ خراب رہی ہے مجھے گرمی لگ جانے یعنی ہیٹ سٹروک کی تکلیف ہوگئی تھی پرسوں رات قریباً ساری رات ہی میں نے جاگ کر گزاری ہے اسی تکلیف کے نتیجہ میں ساری رات پلپی ٹیشن (Palpitation) یعنی دل کی دھڑکن کی رفتار ڈیڑھ سو سے اوپر رہی اور ضعف بھی بہت محسوس ہوتا رہا۔آج گو پہلے کی نسبت بہت آفاقہ محسوس ہو رہا ہے اور دل کی دھڑکن کی رفتار ۹۰ کے قریب آگئی ہے۔( گو یہ رفتار بھی کچھ زیادہ ہے ) لیکن ضعف بہت محسوس ہو رہا تھا۔میں نے خیال کیا کہ اگر اس ضعف کی وجہ سے میں خطبہ جمعہ کے لئے مسجد میں حاضر نہ ہوا تو کہیں میرا رب مجھ سے ناراض نہ ہو جائے اور وہ یہ نہ کہے کہ ہم نے جماعت میں تمہاری اتنی محبت اور پیار پیدا کیا ہے اور تم اس کی ملاقات سے بھی محروم ہو رہے ہو۔اس خوف کی وجہ سے باوجود ضعف کے میں حاضر ہو گیا ہوں اور اسی مقام خوف کی طرف میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں لوگوں کو متوجہ بھی کیا تھا اور بتایا تھا کہ مومن کا مقام خوف اور رجا کے درمیان ہوتا ہے ایک طرف اللہ تعالیٰ کا بندہ اس سے ڈرتا رہتا ہے اور اسے اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں اس کے کسی