خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 110 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 110

خطبات ناصر جلد اول 11۔خطبہ جمعہ ۲۱ جنوری ۱۹۶۶ء یہ ساری باتیں اقتدی کی تشریح اور تفسیر ہیں اور ان کا خلاصہ یہی ہے کہ جس طرح عجز کے ساتھ۔دنیا سے کلیہ منہ موڑ کر اور خالصہ اپنے رب کے حضور حاضر رہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی گزاری ہے اور جس طرح آپ بنی نوع انسان کے لئے محض شفقت اور محض رحمت تھے۔اسی طرح کی زندگی اگر ہم بھی گزارنے کی کوشش کریں یعنی ایک طرف ہم حقوق اللہ کو ادا کرنے کی طرف کوشش کریں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کا بھی لحاظ رکھنے والے ہوں اور ان پر شفقت اور رحم کرنے والے ہوں۔ان سے پیار کرنے والے ہوں، ان کے کام آنے والے ہوں اور اپنی دعا اور تدبیر کے ساتھ ان کے دکھوں کو دور کرنے والے ہوں ، وہ ہمارے بھائیوں سے زیادہ ہمیں عزیز اور ہم بھائیوں سے زیادہ ان پر شفقت کرنے والے ہوں۔تب اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل کے ساتھ محض اپنے فضل کے ساتھ محض اپنے فضل کے ساتھ ، ہمیں اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لے گا۔کیونکہ اس کے فضل کے بغیر ہماری نجات ممکن نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو کون پیارا ہوسکتا ہے۔حضرت ابو ہریرۃ روایت فرماتے ہیں کہ صحابہ نے آپ سے عرض کیا، یا رسول اللہ ! کیا آپ کی نجات بھی آپ کے اعمال کے نتیجہ میں نہیں ہوگی بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہو گی ؟ تو آپ نے فرمایا ہاں ! میری نجات بھی محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔میرے عمل کے نتیجہ میں نہیں ہوگی۔غرض جب تک ہم اپنے تمام کاموں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر نہ چلیں اور آپ کی اقتداء نہ کریں اس وقت تک ہمیں تسلی نہیں ہو سکتی اور یہ تو خدا تعالیٰ کو ہی علم ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتے ہیں یا نہیں ، اس لئے ہمیں اپنی زندگیوں کے آخری سانس تک خدا تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیے، کہ اے خدا ہم نے کچھ کیا یا نہیں کیا۔ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم سب کچھ بھی کر دیں تب بھی ہمارے اعمال میں بہت سی کمزوریاں ہوں گی اور وہ اس قابل نہیں ہوں گے کہ تو انہیں قبول کرے۔اس لئے ہم یہ نہیں کہتے کہ تو ہمارے عمل کو قبول کر، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ تو اپنے فضل سے ہمیں قبول کر لے اور اپنے قرب