خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 108 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 108

خطبات ناصر جلد اوّل ۷۰۱ خطبہ جمعہ ۲۱ جنوری ۱۹۶۶ء جاسکتے۔تم واپس جاؤ اور ان اعمال کو اس شخص کے منہ پر مارو اور اس کے دل پر تالا لگا دو کیونکہ مجھے خدا تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں اس کے حضور ایسے اعمال پیش نہ کروں جن سے خالصتاً خدا تعالیٰ کی رضا مطلوب نہ ہو اور ان میں کوئی آمیزش ہو۔اس شخص نے یہ اعمال غیر اللہ کی خاطر کئے ہیں أَرَادَ بِهِ رِفْعَةٌ عِنْدَ الْفُقَهَاءِ شخص فقیہوں کی مجالس میں بیٹھ کر اور فخر سے گردن اونچی کر کے تفقہ اور اجتہاد کی باتیں کرتا ہے تا ان کے اندر سے ایک بلند مرتبہ اور شان حاصل ہو۔اس نے یہ اعمال میری رضا کی خاطر نہیں کیے بلکہ محض لاف زنی کے لئے کئے ہیں۔وَذِكْرًا عِنْدَ الْعُلَمَاءِ وَصِيَّتًا فِي الْمَدَانِ اس کی غرض یہ تھی کہ وہ دنیا میں ایک بڑے بزرگ کی حیثیت سے مشہور ہو جائے۔علماء کی مجالس میں اس کا ذکر ہو۔آمَرَنِي رَبِّي أَنْ لَّا أَدَعَ عَمَلَهُ يُجَاوِزُ نِي إِلَى غَيْرِى وَكُلُّ عَمَلٍ لَمْ يَكُنْ لِلَّهِ تَعَالَى خَالِصًا فَهُوَ رِيَآء۔وہ کام جو خالصاً خدا تعالیٰ کے لئے نہ ہو اور اس میں ریاء کی ملونی ہو وہ خدا تعالیٰ کے حضور مقبول نہیں اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں ایسے اعمال کو آگے نہ گزرنے دوں۔تم واپس جاؤ اور ان اعمال کو اس شخص کے منہ پر دے مارو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کچھ اور فرشتے ایک اور بندے کے اعمال لے کر آسمانوں کی طرف بلند ہوئے اور ساتوں آسمانوں کے دربان فرشتوں نے انہیں گزرنے دیا۔انہیں ان اعمال پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ان اعمال میں زکوۃ بھی تھی ، روزے بھی تھے، نماز بھی تھی، حج بھی تھا، عمرہ بھی تھا، اچھے اخلاق بھی تھے۔ذکر الہی بھی تھا اور جب وہ فرشتے ان اعمال کو خدا تعالیٰ کے حضور میں لے جانے کے لئے روانہ ہوئے تو آسمانوں کے فرشتے ان کے ساتھ ہو لئے اور وہ تمام دروازوں میں سے گزرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے دربار میں پہنچ گئے۔وہ فرشتے خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو گئے لِيَشْهَدُوا لَهُ بِالْعَمَلِ الصَّالِحِ الْمُخْلَصِ لِلَّهِ اور کہا اے ہمارے ربّ! تیرا یہ بندہ ہر وقت تیری عبادت میں مصروف رہتا ہے، وہ بڑی نیکیاں کرتا ہے اور اپنے تمام اوقات عزیزہ کو تیری اطاعت میں خرچ کر دیتا ہے۔وہ بڑا ہی مخلص بندہ ہے۔اس میں کوئی عیب نہیں۔غرض انہوں نے اس شخص کی بڑی تعریف کی۔خدا تعالیٰ نے فرما یا آنْتُمُ الْحَفَظَةُ عَلَى عَمَلِ عَبْدِینی کہ تمہیں تو میں نے اعمال کی حفاظت اور انہیں تحریر کرنے کے لئے مقرر کیا ہے۔تم