خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 106
خطبات ناصر جلد اوّل 1+4 خطبہ جمعہ ۲۱ جنوری ۱۹۶۶ء کو ہی سب کچھ سمجھتا تھا اور دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا اور ان سے تکبر اور اباء کا سلوک کیا کرتا تھا اور وہ اپنی مجالس میں گردن اونچی کر کے بیٹھنے والا تھا۔اس کے اعمال گوتمہاری نظر میں اچھے نظر آ رہے ہیں لیکن وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں مقبول نہیں۔آپ نے فرمایا فرشتوں کا ایک چوتھا گروہ ایک اور بندے کے اعمال لے کر آسمان کی طرف بلند ہوا۔يَز هُوَ كَمَا يَزْهُوَ الْكَوْكَبُ الدُّرِيُّ وہ اعمال ان فرشتوں کو کوکب الدری کی طرح خوبصورت معلوم ہوتے تھے۔ان میں نمازیں بھی تھیں تسبیح بھی تھی ، حج بھی تھا، عمرہ بھی تھا۔وہ فرشتے یہ اعمال لے کر آسمان کے بعد آسمان اور دروازہ کے بعد دروازہ سے گزرتے ہوئے چوتھے آسمان کے دروازہ پر پہنچے تو اس کے دربان فرشتے نے انہیں کہا ٹھہر جاؤ۔تم یہ اعمال ان کے بجالانے والے کے پاس واپس لے جاؤ اور اس کے منہ پر دے مارو۔میں خود پسندی کا فرشتہ ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اس شخص کے اعمال کو جس کے اندر عجب پایا جائے۔گویا وہ اپنے نفس کو خدا تعالیٰ کا شریک سمجھتا ہو اور خود پسندی کا احساس اس کے اندر پایا جائے اور اس میں خدا تعالیٰ کی بندگی کا احساس نہ پایا جاتا ہو۔اس چوتھے آسمان کے دروازہ سے نہ گزرنے دوں۔میرے رب کا مجھے یہی حکم ہے۔اِنَّهُ كَانَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَدْخَلَ الْعُجْبَ فيه يه شخص جب کوئی کام کرتا تھا خود پسندی کو اس کا ایک حصہ بنادیتا تھا۔اس کے اعمال اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مقبول نہیں ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، فرشتوں کا ایک پانچواں گروہ ایک اور بندے کے اعمال لے کر آسمانوں کی طرف بلند ہوا۔ان اعمال کے متعلق ان فرشتوں کا خیال تھا کہ گانه الْعُرُوسُ الْمَرْفُوفَةِ إِلى أَهْلِهَا۔وہ ایک سجی سجائی سولہ سنگھار سے آراستہ خوشبو پھیلاتی دلہن کی طرح ہیں جو رخصتانہ کی رات کو اپنے دولہا کے سامنے پیش کی جاتی ہے لیکن جب وہ چاروں آسمانوں پر سے گزرتے ہوئے پانچویں آسمان پر پہنچے تو اس کے دربان فرشتے نے کہا قِفُوا ٹھہر جاؤ وَاضْرِبُوا لِهَذَا الْعَمَلَ وَجْهَ صَاحِبِهِ ان اعمال کو واپس لے جاؤ اور اس شخص کے منہ پر مارو اور اسے کہہ دو کہ تمہارا خدا ان اعمال کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔آنَا مَلِكُ الْحَسَدِ میں