خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 104 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 104

خطبات ناصر جلد اول ۱۰۴ خطبہ جمعہ ۲۱ جنوری ۱۹۶۶ء کو کی۔دوست اسے غور سے سنیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس وصیت کو سننے کے بعد کوئی انسان مرتے دم تک اپنے کسی عمل سے کسی صورت میں بھی مطمئن نہیں ہوسکتا۔یہ وصیت بڑی لمبی ہے اس لئے میں اس کے الفاظ نہیں پڑھوں گا بلکہ ان کا صرف ترجمہ بیان کروں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن حضرت معاذ سے فرمایا يَا مُعَاذُ إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثِ إِنْ أَنْتَ حَفِظْتَهُ نَفَعَكَ اے معاذ! میں تجھے ایک بات بتا تا ہوں ،اگر تو نے اسے یا درکھا تو یہ تمہیں نفع پہنچائے گی اور اگر تم اسے بھول گئے تو اِنْقَطَعَتْ حُجَّتُكَ عِنْدَ اللهِ اللہ تعالیٰ کا فضل تم حاصل نہیں کر سکو گے اور تمہارے پاس نجات حاصل کرنے کے بارہ میں اطمینان کے لئے کوئی دلیل باقی نہیں رہے گی۔يَا مُعَاذُ اِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَلَقَ سَبْعَةَ أَمْلَاكٍ قَبْلَ أَن يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ اے معاذ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پہلے سات در بان فرشتوں کو پیدا کیا (اور جیسا کہ اس حدیث کے مفہوم سے پتہ لگتا ہے یہاں آسمانوں سے مراد روحانی آسمان ہیں جن میں روحانی لوگ اپنے اپنے درجہ کے مطابق رکھے جاتے ہیں) اور ان فرشتوں میں سے ایک ایک کو ہر آسمان پر بطور بواب یعنی در بان کے مقرر کر دیا۔ان کی ڈیوٹی تھی کہ تم اپنی اپنی جگہ پر رہو اور صرف ان لوگوں کے اعمال کو یہاں سے گزرنے دو جن کے گزرنے کی ہم اجازت دیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فرشتے جو انسان کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کا روز نامچہ لکھتے ہیں ،خدا کے ایک بندے کے اعمال لے کر جو اس نے صبح سے شام تک کیے تھے آسمان کی طرف بلند ہوئے اور ان اعمال کو ان فرشتوں نے بھی پاکیزہ سمجھا تھا اور انہیں بہت زیادہ خیال کیا تھا۔لیکن جب وہ اعمال لے کر پہلے آسمان پر پہنچے تو انہوں نے دربان فرشتے سے کہا کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور ایک بندے کے اعمال پیش کرنے آئے ہیں۔یہ اعمال بہت پاکیزہ ہیں ، تو اس فرشتے نے انہیں کہا ٹھہر جاؤ تمہیں آگے جانے کی اجازت نہیں تم واپس لوٹو اور جس شخص کے یہ اعمال ہیں انہیں اس کے منہ پر مارو۔خدا تعالیٰ نے مجھے یہاں یہ ہدایت دے کر کھڑا کیا ہے کہ میں کسی غیبت کرنے والے بندہ کے اعمال کو اس دروازہ میں سے نہ گزرنے دوں اور یہ شخص جس کے اعمال تم خدا تعالیٰ کے حضور پیش