خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 98
خطبات ناصر جلد اول ۹۸ خطبہ جمعہ ۱۴ جنوری ۱۹۶۶ء حسین کیوں نہ ہو۔کتنا ہی صالح کیوں نہ ہو۔کتنا ہی نیک اور عمدہ کیوں نہ ہو۔اگر خدا تعالیٰ اسے قبول نہیں کرتا اور نفرت سے اسے دور پھینک دیتا ہے تو وہ بالکل بے فائدہ ہے۔پس خدا کرے کہ ہمارے اعمال اس کی نگاہ میں پسندیدہ ہوں اور وہ انہیں نہ صرف قبول فرمالے بلکہ قبولیت کے بعد ہمیں ان سے مزید فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطا کرے۔پھر وہ ہمیشہ ہمیں اپنی حفاظت اور امان میں رکھے۔ہمارے دل میں اس کی توحید کے قیام اور غلبہ اسلام کے لئے خواہش اور تڑپ بڑی شدت سے ہمیشہ موجودر ہے۔پھر ہم ان دونوں اغراض کے لئے باقاعدہ جد و جہد بھی کریں اور وہ ہماری اس جد و جہد کو قبول فرما لے اور ہماری زندگیوں میں ہی اسلام کے غلبہ اور اپنی توحید کے قیام کا سامان پیدا کر دے اور ہمیں یقین ہے کہ ایسے سامان ضرور پیدا ہوں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر فیصلہ کر لیا ہے ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ ہماری زندگیوں میں ہی ایسے سامان پیدا کر دے کہ جس ملک میں بھی ہم جائیں اس کے رہنے والوں کی زندگیوں میں اسلام کی حکومت مشاہدہ کریں۔پھر ہم یہ دیکھیں کہ وہ لوگ اسلام کے پیرو اور اس کی اطاعت کرنے والے ہیں۔وہ اپنے رب کے ممنون ہیں کہ اس نے اسلام کی نعمت سے انہیں نوازا اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والے ہیں کہ آپ ان کے لئے آسمان سے قرآن کریم جیسی عظیم الشان کتاب لے کر آئے۔آمین اللهم آمین روزنامه الفضل ربوه ۲۱ جنوری ۱۹۶۶ء صفحه ۲ تا ۴)