خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 93
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۳ خطبہ جمعہ ۱۴ جنوری ۱۹۶۶ء سکھانے کا نہیں بلکہ خلوت میں اپنے رب کو یاد کرنے کا ہے۔لیکن بعض چھوٹی چھوٹی بدعتیں پیدا ہو جاتی ہیں جن کا دور کرنا ضروری ہے۔ہماری اس مسجد میں اور ممکن ہے دوسری مساجد میں بھی ، بعض لوگ معتکفین کی خلوت میں خلل انداز ہونے کی کوشش کرتے ہوں۔انہیں یا درکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا میرے ایک عزیز معتکف نے دو تین سال ہوئے مجھے بتایا کہ ہم لوگ دعاؤں میں مشغول ہوتے ہیں کہ ہمارے حجرہ میں کوئی شخص ہاتھ بڑھا کر مٹھائی کی ایک چھوٹی سی تھیلی رکھ دیتا ہے پھر دوسرا آدمی آ جاتا ہے اور کہتا ہے میرے لئے بھی دعا کرنا وغیرہ وغیرہ۔یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جس کی وجہ سے دعا کے لئے تنہائی میسر نہیں آتی یہ درست نہیں معتکف کو دعا کے لئے کہنا ہی ہے تو اعتکاف بیٹھنے سے پہلے کہہ دیں یا اس کے لئے کوئی ایسا طریق اختیار کریں جو معتکلف کی عبادت اور دعا میں خلل نہ ڈالے اس دفعہ ہماری مسجد میں ۸۰ کے قریب افراد اعتکاف بیٹھے ہیں اگر ربوہ کے دس ہزار باشندے باری باری ان کے پاس آنا اور دعا کے لئے کہنا شروع کر دیں تو ان کا سارا وقت تو دعا کی درخواستیں سننے میں لگ جائے گا پھر وہ دعا کب کریں گے۔تم اس چیز کو جسے ان کے خدا اور رسول نے اور تمہارے خدا اور رسول نے ان کے لئے پسند کیا ہے یعنی خالص تنہائی اور خلوت ان سے چھین لیتے ہو۔یہ کپڑے کی عارضی دیوار میں اس بات کی علامت ہیں کہ ان لوگوں کو خلوت میسر آنی چاہیے اور یہ کہ دنیا کی نظر سے جو انہیں پریشان کرتی ہے اور ان کے وقت کو ضائع کرتی ہے یہ لوگ آزاد اور محفوظ رہنا چاہتے ہیں یہ دیوار میں حدود اللہ کو قائم رکھنے والی چیزیں ہیں اور آنے والے کو خبر دار کرتی ہیں کہ آگے نہ جائیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا ایک بندہ اپنے رب کو یاد کر رہا ہے اور تم جرات کر کے ایک آدھ لڈو یا کچھ مٹھائی اور دعا کے لئے پیغام پہنچانے کے لئے ان کے اوقات کو ضائع کر رہے ہو حقیقت یہ ہے کہ اگر اعتکاف سے بڑی عبادت نہ ہوتی جو بطور فرض کے ہے تو مساجد کے اندر اعتکاف بیٹھنے سے منع کر دیا جاتا۔اسلام نے اجتماعی عبادتوں کو انفرادی عبادات پر ترجیح اور اہمیت دی ہے۔مثلاً نماز باجماعت ہے جمعہ کی نماز ہے ان عبادات کو انفرادی اور نفلی عبادت پر فوقیت حاصل ہے اگر مسجد سے باہر اعتکاف بیٹھنے کا حکم دیا جاتا تو معتکف اعتکاف کے دنوں میں نہ نماز باجماعت ادا کر سکتا