خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1033
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۰۳۳ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۶۷ء کا۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ خلافت میں بھی آپ کو قربانی کے ایک مقام پر کھڑا نہیں رہنے دیا بلکہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ذہن میں نئے سے نئے منصوبے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اسی کے ارادہ سے اور اسی کے سکھانے سے آئے اور حضور نے جماعت کو قربانی کے میدان میں آگے سے آگے دھکیلا تا کہ اس زمانہ کے احمدیوں کی قربانیوں کی مشابہت صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ حضرت مسیح موعود کی قربانیوں سے ایک حد تک ہو جائے تا اسی قسم کے انعامات کے یہ بھی وارث ہوں اب یہ خلافت ثالثہ کا زمانہ ہے اور یہ تو اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے کہ کتنا لمبا عرصہ یہ رہے گا۔لیکن آج میں ایک بات آپ کو بتا دیتا ہوں اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلام کو تمام دنیا میں غالب کرنے کی جو آسمانی مہم شروع کی گئی تھی آج وہ ایک نہایت ہی اہم اور نازک دور میں داخل ہو چکی ہے اور جماعت احمدیہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ آئندہ کم و بیش تیس سال تک اپنی قربانیوں کو انتہاء تک پہنچائے۔نیز اپنی دعاؤں کو انتہاء تک پہنچائے تا اللہ تعالیٰ ان قربانیوں اور ان دعاؤں کو قبول کرے اور وہ مقاصد حاصل ہوں جن مقاصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو کھڑا کیا ہے۔پس کم و بیش تیس سال کا عرصہ بڑا ہی اہم ہے بڑا ہی اہم ہے اور ہم سے انتہائی قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی ہے کہ اگر تم میری راہ میں انتہائی قربانیاں دو گے اور اسلام کے ہر حکم کے سامنے اپنے سروں کو جھکا دو گے۔خالص مسلمان ہو جاؤ گے اپنے نفسوں پر ایک موت وارد کر لو گے تو میں تمہیں انتہائی اور عظیم انعام بھی دوں گا۔پس ہم میں سے ہر ایک شخص کا (انفرادی حیثیت میں بھی اور جماعت کا بحیثیت جماعت ) فرض ہے کہ وہ آگے بڑھے اور اس نازک اور اہم وقت میں انتہائی قربانیوں کو اپنے رب کے قدموں میں جار کھے تاکہ اپنے رب کی پیار بھری نگاہ کا وہ مستحق اور وارث قرار دیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہماری مدد کے لئے آسمانوں سے اتریں اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہماری زندگیوں میں پورا ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر دل میں گاڑ دی جائے گی“۔روزنامه الفضل ربوه ۹ /جنوری ۱۹۶۸ ء صفحه ۲ تا ۵) 谢谢谢