خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1032
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۰۳۲ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۶۷ء اس زمانہ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ انتہائی قربانیاں لی جائیں گی اور عظیم انعامات کا وارث کیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جب اللہ تعالیٰ کی وہ پیشگوئیاں اور وہ آیات بینات اور وہ نشانات ابھی ظاہر نہیں ہوئے تھے جو بعد میں ہوئے اس وقت بھی آپ پر کچھ لوگ ایمان لائے ان لوگوں کی زندگیوں کو جب ہم دیکھتے ہیں اور اس زمانہ کے حالات پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان لوگوں نے انتہائی قربانیاں دیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نشانات ابھی پوری طرح واضح نہیں تھے۔وہ غیب پر ایمان لائے ان کے بعد میں آنے والوں نے تو ہزاروں نشان دیکھے بعض نے ان سے فائدہ اٹھایا بعض نے فائدہ نہیں اُٹھایا لیکن نشان ہر ایک نے ہی دیکھے۔بہر حال ان نشانوں کے دیکھنے کے بعد جو لوگ ایمان لائے وہ انتہائی اندھیروں کے اوقات میں ایمان لانے والوں میں شمار نہیں ہو سکتے اور اس وجہ سے ان کی قربانیوں کی وہ شان نہیں جو سابقون کی قربانیوں کی ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ابتدائی زمانہ میں ایمان لائے تھے اور ان قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک نور دنیا کے لئے پیدا کیا۔جماعت نے ترقی کی۔اللہ تعالیٰ کے فضل اس طرح نازل ہوئے کہ وہ جس کی آواز اپنے گاؤں کی گلیوں میں بھی نہیں گونجی تھی آج اس کی آواز ساری دنیا کی فضا میں گونج رہی ہے اور یہ تو ایک مثال ہے جس زاویہ سے بھی آپ دیکھیں گے آپ کو یہی نظر آئے گا یہ نتیجہ ہے ان قربانیوں کی قبولیت کا جوابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والوں نے ان اندھیری راتوں میں دیں اور انہیں اللہ تعالیٰ نے قبول کیا لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں بڑی وسعت ہے وہ زمانہ کے بدلے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ قربانیوں کو بھی بڑھاتا چلا جاتا ہے۔اب اس زمانہ میں قربانیاں اور قسم کی ہیں اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دئے آپ کے لئے کہ آپ کو قربانیوں کے اس مقام پر کھڑا نہیں رہنے دیا بلکہ اپنے بندوں کو جنہیں اس نے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا بہت سے منصو بے سکھائے اور اس نے آپ کو قربانیوں کے میدان میں آگے سے آگے پہنچا دیا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی زندگی کے حالات کو دیکھیں کس طرح آپ نے جماعت کے استحکام اور ترقی کی تدابیر کیں اور جماعت سے قربانیاں لیں پھر ایک لمبا زمانہ خلافت ثانیہ کا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت