خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1030
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۶۷ء ہو سکتا ہے؟ اور جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اگر اُمت کے وہ افراد اور جب تک اُمت کے وہ افراد جو روحانی طور پر زیادہ قوتیں اور استعدادیں رکھنے والے ہوتے ہیں اور جو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی رحمتوں کے زیادہ وارث ہوتے ہیں وہ اُمت کے لئے اُمت کی دنیوی بہبود اور روحانی ترقیات کے لئے دعائیں کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کے سب احکام بجالاتے رہیں اور اسلام کے ہر حکم کے نیچے اپنی گردن کو رکھنے والے ہوں اور انتہائی قربانیاں اس کے لئے دینے والے ہوں ان کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ رمضان کی اس لیلَةُ الْقَدْرِ میں قبول کرتا ہے اور اس طرح اُمت مسلمہ ترقی کے دنیوی اور روحانی مدارج طے کرتی چلی جاتی ہے لیکن پھر ایک ایسا دور آتا ہے کہ جب اُمت بحیثیت مجموعی ایسی نہیں رہتی تب لَیلَةُ الْقَدْرِ سے وہ محروم ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں تنزل کا دور اسلام پر آنا شروع ہو جاتا ہے۔اجتماعی طور پر لَيْلَةُ الْقَدْرِ وہ زمانہ بھی ہے جو ایک نبی کا زمانہ ہوتا ہے جو انتہائی فساد اور اندھیرے اور ظلمت کا زمانہ ہوتا ہے لیکن ظلمت کے اس زمانہ میں اندھیرے کی ان گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں اپنے بندوں کے لئے نور کا سامان پیدا کروں گا۔سب سے زیادہ ظلمت شیطان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پھیلائی اس سے زیادہ اندھیرے دنیا کی تاریخ میں ہمیں کہیں نظر نہیں آئیں گے اور سب سے روشن نورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں اور آپ کے طفیل ان اندھیروں میں سے ہی طلوع ہوا اور یہ رات ( جس میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اندھیروں کو دور کر دیا جائے گا) جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی اندھیری رات تھی ایسی اندھیری رات کہ اس سے بڑھ کر اندھیرا تصور میں بھی نہیں آسکتا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ روشنی کے سامان پیدا کئے گئے اس قدر روشنی اور نور کہ انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے قیامت تک کے لئے وہ احکام دے دئے گئے وہ صراط مستقیم بتا دیا گیا جن پر چل کر انسان اپنے رب جو نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ ہے کے نور سے نور حاصل کر کے اپنے ظاہر و باطن کو منور کر سکتا ہے۔تو یہ زمانہ بھی لیلۃ القدر کا زمانہ ہے یعنی فساد کا یعنی شیطانی حکومت کا یعنی اللہ تعالیٰ کے