خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1021
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۰۲۱ خطبہ جمعہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۶۷ء سکتے۔اگر ہمارے دل میں بنی نوع انسان کی وہ حقیقی محبت پیدا ہو جائے اور ان سے وہ تعلق مودت واخوت پیدا ہو جائے، جو پیدا ہونا چاہیے اور اگر ہم یہ محسوس کرنے لگیں کہ بنی نوع انسان آج تباہی کے گڑھے پر کھڑے ہیں اور اگر ہمیں اس بات پر کامل یقین ہو کہ ہمارے پاس ایسے سامان نہیں ہیں کہ ہم ان کو اس تباہی سے بچا سکیں اور اگر ہمیں یہ احساس ہو کہ بنی نوع انسان کو اس تباہی سے بچانا آج ہماری اور صرف ہماری ذمہ واری ہے تو ہم ہر دوسری چیز کو بھول کر اس ہتھیار کو ہاتھ میں لیں جو دعا کا ہتھیار ہے اور اپنے رب کے حضور انتہائی عاجزی اور تضرع کے ساتھ جھکیں اور اس سے کہیں۔اے ہمارے پیارے خدا! تو نے اس مخلوق کو جو انسان کہلاتی ہے اس لئے پیدا کیا تھا کہ وہ تیری عبادت میں اپنی زندگی کے دن گزاریں اور تیری صفات کے وہ مظہر بنیں لیکن وہ تجھے بھول گئے انہوں نے تیرے احکام کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال دیا انہوں نے ہر رشتہ جو تجھ سے قائم ہونا چاہیے تھا اس کی طرف توجہ نہیں کی یا قطع کر دیا تیرے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں رہا اس لئے تو اپنے غضب اور قہر کی تجلی سے انہیں ہلاک کرنا چاہتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ تیری رحمانیت بھی جوش میں ہے اور تو نے ہمارے کندھوں پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ ہم انہیں اسلام کی حیات بخش تعلیم سے نئی زندگی دیں اور نئی روح ان کے اندر پیدا کریں ہمارے پاس سامان نہیں صرف تیری ذات پر ہمارا بھروسہ اور ہمارا توکل ہے۔پس ہماری دعاؤں کوسن اور ہماری عاجزانہ تضرعات کی طرف متوجہ ہو اور بنی نوع انسان کو قہر کی نگاہ کی بجائے رحمت کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر اور ان کے دلوں میں ایک تبدیلی پیدا کر کہ وہ تجھے اور تیرے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانے لگیں۔پس ان دنوں میں خاص طور پر بہت دعائیں کریں، بہت دعائیں کریں، جب میں سوچتا ہوں کہ انسان آج کس تباہی کے کنارے کھڑا ہے تو مجھے انتہائی دکھ اور کرب محسوس ہوتا ہے۔کل بھی جب مجھے یہ خیال آیا کہ میں آپ سے یہ اپیل کروں کہ آپ ان دنوں کو خاص بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے وقف کریں میری طبیعت میں بڑی بے چینی تھی میں سوچتا رہا کہ اتنا پیار کرنے والا ہمارا رب ہے اتنا محبت کرنے والا ہمارا خالق ہے اور پھر بھی ہم میں سے وہ بھی ہیں جو اسے بھول