خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1020
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۰۲۰ خطبہ جمعہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۶۷ء اللہ تعالیٰ ہماری کوشش میں برکت ڈالے گا اور اپنے فضل اور اپنی رحمت سے اسلام کی حیات سے بہتوں کو زندہ کرے گا ہم پر یہ ذمہ داری ( جو میں نے ابھی بیان کی ہے ) ڈالی تو گئی ہے لیکن ظاہری اور مادی سامان ہمیں نہیں دیئے گئے۔ساری دنیا کو زندہ کرنے کی کوشش کوئی معمولی بات نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض ہی یہ تھی آپ کو دنیا میں بھیجنے کا مقصد ہی یہ تھا اس زندہ مذہب سے ایک دنیا کو زندہ کیا جائے۔جیسا کہ فرمایا إذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کی حیثیت سے بھیجا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاعاً بتا یا کہ آپ مَظْهَرُ الْحَقِّ “ ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفت حتی کے مظہر اور ہم نے خود کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کیا۔پس ہمارے لئے دو باتیں بڑی ضروری ہیں ایک یہ کہ ہم خود حقیقی زندگی کو حاصل کرنے والے ہوں اور دوسرے یہ کہ ہم دنیا کو زندہ کرنے والے ہوں کیونکہ اس وقت خدا تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ وہ اپنی صفت حتی کے جلوے دنیا کو دکھائے اور ایک نئی زندگی انہیں عطا کرے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ظاہری سامان ہمارے پاس نہیں ایک ہی چیز ہمارے پاس ہے ایک ہی ہتھیار ہے جو ہمیں دیا گیا ہے اور وہ ہتھیار بڑا زبردست ہے۔دنیا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور وہ دعا کا ہتھیار ہے۔پس یہ ہتھیار ہے جو ہمیں دیا گیا اور اس کی کیفیت اور ماہیت ہمیں بتائی گئی اور دعا پر ایک یقین ہمیں عطا کیا گیا ہے اور خدا نے کہا ہے کہ کام گومشکل ہے لیکن ہو نا ضرور ہے۔کیونکہ انسانیت اس وقت ایک نازک دور میں سے گزر رہی ہے اور تمہارے سپرد یہ کام کیا جاتا ہے لیکن سامان تمہیں نہیں دوں گا ہاں دعا کا ہتھیار تمہیں دیتا ہوں۔پس تم دعا کے ذریعہ سے دنیا کو کھینچ کر زندگی کے چشمہ تک لاؤ۔دعا کے لئے دو باتوں کا پایا جانا ضروری ہے ایک یہ کہ انسان اس یقین پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تمام قدرتوں کی مالک ہے اور کوئی بات اس کے لئے انہونی نہیں اور دوسرے یہ کہ اس کی توفیق اور تائید کے بغیر ہماری کوئی ہستی نہیں ہم لاشئی محض ہیں ہم کچھ نہیں کر