خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1019
خطبات ناصر جلد اول 1+19 خطبہ جمعہ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۶۷ء احباب جماعت کو خواہ وہ دنیا کے کسی حصہ میں ہی کیوں نہ رہتے ہوں اپنی حفاظت اور اپنی امان میں رکھے اور ان پر اپنا خاص فضل کرے اور پیار کی نگاہ ہمیشہ ان پر رکھے اور وہ ہر احمدی کو (وہ جہاں بھی ہو ) یہ توفیق دیتا چلا جائے کہ وہ ایسے اعمال بجالائے جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں محبوب ہوں اور اندرونی اور بیرونی فتنوں سے وہ بچائے جائیں اور دشمن کا ہر وار اسی پر الٹا دیا جائے وہ خدا تعالیٰ کے فرشتوں کی حفاظت میں اور اس کی پناہ میں اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں اور ہمیں اللہ تعالی یہ توفیق عطا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اس مقصد کو حاصل کرنے والا ہو جس مقصد کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے یہ دعا تو ضرور کرنی چاہیے اور ہمیشہ کرتے رہنا چاہیے۔لیکن ایک خاص دعا کی طرف میں اپنے دوستوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس وقت بنی نوع انسان اپنے پیدا کرنے والے مہربان رب کو بھول چکے ہیں اور ہر قسم کا فساد انہوں نے دنیا میں پیدا کر دیا ہے۔وہ اپنے رب کو شناخت ہی نہیں کرتے یا دہر یہ ہو چکے ہیں اور کسی رب کو مانتے ہی نہیں یا گنہگار حوا کے پیٹ سے پیدا ہونے والے کو خدا سمجھنے لگ گئے ہیں یا شرک کی اور راہوں کو وہ اختیار کرنے لگے ہیں خدائے واحد و یگانہ اور قادر و توانا کی طرف وہ متوجہ نہیں ہور ہے اور اس سے سارے رشتے اور تعلق انہوں نے قطع کر لئے ہیں۔غرض اس وقت انسانیت ایک نہایت ہی نازک دور سے گزر رہی ہے۔اس قدر فساد دنیا میں پیدا ہو چکا ہے کہ انسانی تاریخ میں ایسا فساد اس دنیا میں کبھی پیدا نہیں ہوا اور اتنی بڑی تباہی انسان کے سامنے کھڑی ہے کہ اس سے پہلے اتنی بڑی تباہی کا اس نے کبھی سامنا نہیں کیا۔یہ بات تو اپنی جگہ صحیح ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ جو نیک فطرت رکھتے ہیں انہیں اس تباہی سے بچائے اور اسلام کی زندگی سے انہیں زندہ کرے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ تلے انہیں لا کر اکٹھا کر دے۔غرض ایک طرف ایک نہایت خطرناک تباہی انسان کے سامنے کھڑی ہے اور ہم پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ ہم ان کے بچانے کی فکر کریں اور دوسری طرف ہمیں یہ وعدہ دیا گیا ہے اگر ہم خلوص نیت کے ساتھ انسان کو اس انتہائی طور پر خطر ناک تباہی سے بچانے کی کوشش کریں گے تو