خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1006 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1006

خطبات ناصر جلد اوّل 10+9 خطبہ جمعہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۶۷ء انسان خود اپنے نفس پر ڈالتا ہے یہ تینوں قسم کی تکالیف ان تینوں لفظوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے (جب جہاد کی شرائط پوری ہوں ) تلوار کے جہاد کا حکم دیا ہے کہ تم اپنی جانوں کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ اور میدان مقابلہ اور میدان جنگ میں جا اُتر و اور وہ ایسا موقعہ ہے کہ جب انسان خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے نَقُصُّ فِي الْأَنْفُسِ یعنی جانوں کا نقصان کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور بہت سے ان میں خدا کی راہ میں شہید بھی ہو جاتے ہیں اور شہید ہوتے رہے ہیں وہ خود بھی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وارث ہوتے رہے ہیں اور دنیا کے لئے بھی ان کا وجود ایک نعمت بنتا رہا ہے تو یہ دنیوی لحاظ سے ایک تکلیف ہے جو انسان اپنے نفس پر ڈالتا ہے جسے انسان اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو پہنچاتا ہے یا مثلاً بھوکا رہنا ہے بھوک تو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے انسان کا جسم اپنے نفس کو یہ کہتا ہے کہ مجھے کھانے کو کچھ دو تا میری کمزوری دور ہو جائے اور جوا جزاء جسم سے خارج ہو گئے ہیں یا مر گئے ہیں ان کی جگہ زندہ اجزاء لے لیں غرض بھوک ایک ایسی تکلیف ہے جو یہ بتا رہی ہوتی ہے کہ ہمارے جسموں میں ایک کمزوری واقع ہو رہی ہے اور اس کی طرف ہمیں متوجہ ہونا چاہیے کیونکہ اگر انسان اپنی اس کمزوری اور ضرورت کی طرف ایک لمبا عرصہ متوجہ نہ ہو تو اس کی موت واقع ہو جائے گی۔لوگ دنیا کو ڈرانے کے لئے بھی تو بھوک ہڑتال کرتے ہیں اور بعض دفعہ اپنی بیچ کی وجہ سے اپنی جان بھی دے دیتے ہیں اس میں ان کی جان اسی لئے ضائع ہوتی ہے کہ جسم کی ضرورت کو پورا نہیں کیا جاتا جسم ان کو کہتا ہے میری ضرورت کو پورا کر ومگر وہ کہتے ہیں ہم بڑے ضدی آدمی ہیں ہم تمہاری ضرورت کو پورا نہیں کریں گے اس طرح وہ ہلاکت میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں۔لیکن ایک تکلیف بھوک کی وہ ہے جو انسان خدا کے لئے برداشت کرتا ہے اور اس کے بہت سے مواقع ہیں صرف رمضان ہی اس کا موقعہ نہیں مثلاً ایک دفعہ جہاد کے موقع پر راشن کم ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شخص کے پاس جو کھانے کی اشیاء تھیں وہ ایک جگہ جمع کر لیں اور پھر وہ تھوڑی تھوڑی کر کے فوج میں تقسیم کرنا شروع کیں تا ہر ایک کو حصہ رسدی کچھ نہ کچھ پہنچ جائے کیونکہ آپ نے یہ پسند نہیں فرمایا کہ مسلمانوں کے معاشرہ