خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1005
خطبات ناصر جلد اول ۱۰۰۵ خطبہ جمعہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۶۷ء کے قریب ہی اس کی مدد ہے یعنی انہیں اس کی مدد فوراً پہنچ جاتی ہے۔بأْسَاءُ ، ضَرَّاء اور زُلْزِلُوا تین الفاظ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان تکالیف اور مصائب کے متعلق استعمال کئے ہیں۔بأساء کے معنی (مفردات) میں اَلشَّدَةُ وَالْمَكْرُوہ یعنی مصائب اور شدائد کے آئے ہیں۔پھر وہ چیز جسے انسان کا نفس پسند نہیں کرتا اور وہ چیز جو اس امر پر گراں ہوتی ہے اس کو بھی بأساء کہتے ہیں اور تنگ دستی کو بھی باسَاءُ کہتے ہیں۔الضراء کے معنی سُوءُ الْحَالِ یعنی بُرے حال کے ہیں یہ لفظ عربی زبان میں اس وقت بھی بولا جاتا ہے جب کسی کو کہنا ہو کہ اس کا تو براحال ہے نہ اس کے پاس علم ہے نہ فضل ہے اور نہ وہ اخلاق فاضلہ رکھتا ہے پس دشمن ان کو ایسا سمجھتے اور ایسا مشہور کرتے ہیں۔دوسری جگہ فرمایا وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذُلُونَ پھر انسان کی ظاہری حالت کو دیکھتے ہوئے بھی ضراء کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہوتے ہیں کہ اس کے پاس مال کی کمی ہے دنیوی عزت اور دنیوی وجاہت کی کمی ہے ( مفرادت ) منجد میں اَلضَّرَّاءُ کے معنى النَّقْصُ فِي الْأَنْفُسِ وَالْأَمْوَالِ یعنی جانی اور مالی نقصان کے بھی کئے گئے ہیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو شخص ضراء میں مبتلا ہو وہ بے کسی اور کسمپرسی کی حالت میں ہوتا ہے۔وَزُلْزِلُوا۔زُلْزِلَ کا لفظ اگر زمین کے متعلق استعمال ہو تو اس کے معنی ہیں جھٹکے لگے اور بعض دفعہ زلزلہ میں زمین کو تہ و بالا بھی کر دیا جاتا ہے۔جب انسان کے متعلق یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں خُوفَ وَحُذِرَ یا زُغْزِعَ مِنَ الرغب۔یعنی بڑا خوف اس کے دل میں پیدا کیا گیا اور اس کو ڈرایا گیا۔اس آیت میں یہ تین الفاظ صرف مخالفین کی مخالفت طرف اشارہ نہیں کر رہے بلکہ ہرسہ تکالیف کی طرف اشارہ کر رہے ہیں یعنی وہ تکلیف (بأسَاءُ، ضَر او اور زُلْزِلَ ) جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے مخالف انہیں پہنچاتے ہیں اور دوسرے وہ تکلیف جو اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر کے نتیجہ میں انہیں پہنچاتا ہے تاکہ ان کا امتحان لے۔تیسرے وہ تکالیف اور تنگیاں جو