خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 86
خطبات ناصر جلد اول ۸۶ خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۶۶ء وقت میں جیسا کہ میں بتا چکا ہوں صرف کچھ اشارے کر رہا ہوں تفاصیل میں اداروں کو خود جانا چاہیے۔مثلاً وقف جدید انجمن احمدیہ نے مختلف جگہوں پر تربیت کی غرض سے اپنے معلم بٹھائے ہوئے ہیں اور وہ کام بھی کر رہے ہیں لیکن بعض رپورٹوں سے جو مجھے ملی ہیں معلوم ہوا ہے کہ ان کے اندر بھی لکیر کے فقیر ہونے کی عادت پیدا ہو رہی ہے اس لئے کہ کام چلانے کے لئے بعض قواعد وضع کرنے پڑتے ہیں اور ان کی وجہ سے کام میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے لیکن بعد میں ان قواعد کو اصل کام سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ قواعد ہمارے ماتحت ہیں ہم قواعد کے ماتحت نہیں۔اگر قواعد کے اندر لچک نہ ہو تو ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں فائدہ پہنچانے کی بجائے بعض جگہ نقصان بھی پہنچا دیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل عطا کی ہے تا ہم اپنے وضع کردہ قواعد سے نقصان نہ اٹھا ئیں۔ہمیں فراست سے کام لینا چاہیے اور ضرورت کے مطابق اپنا منصوبہ بنانا چاہیے۔پھر منصوبہ صرف آئیڈیل (Ideal) نہیں ہونا چاہیے۔یعنی اگر اب ہم ایک ارب کا منصوبہ بنالیں تو اس منصو بہ اور ہماری آمد کے درمیان اتنا تفاوت ہوگا کہ کوئی عقل اسے صحیح تسلیم نہیں کرے گی اور یہ ایک ہنسی کی بات بن جائے گی لیکن اگر ہماری آمد ۵۰ لاکھ روپیہ ہے اور ہم ساٹھ لاکھ روپیہ کا منصوبہ بنا لیتے ہیں تو یہ کوئی اتنا بڑا فرق نہیں جسے عقل تسلیم نہ کرے۔ہاں اس کے لئے ہمیں جد و جہد کرنا پڑے گی اور منصوبہ کا مطلب ہی یہ ہے کہ موجودہ وقت میں جو طاقت اور وسائل ہمیں حاصل ہیں اس سے زیادہ ہم چاہتے ہیں اور اس زیادہ کو مد نظر رکھ کر ہم اپنی عقل سمجھ اور حالات کے مطابق ایک سکیم بناتے ہیں اور اس کے پورا کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں لیکن اگر ہم اگلے سال کے لئے بھی پچاس لاکھ روپیہ کا منصوبہ بناتے ہیں تو گویا ہم رک گئے اور رک جانا قوم کے لئے نہایت مہلک ہے۔بہر حال وقف جدید انجمن احمد یہ کوسینکڑوں معلم اور چاہئیں اس لئے ہمیں سینکڑوں نوجوان جو وقف جدید کے معلم ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں ، ملنے چاہئیں اور جلد تر ملنے چاہئیں۔یہ صحیح ہے کہ بعض جگہ وقف جدید کے معلمین کا کام تسلی بخش نہیں لیکن بعض جگہوں پر انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔اس لئے یہ تو کام دیکھ کر ہی بتایا جا سکتا ہے کہ کون سا معلم اہل ہے اور کون سا