خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 988
خطبات ناصر جلد اول ۹۸۸ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۶۷ء تیسرے جَھل کے معنی ہیں فِعْلُ الشَّيْءِ بِخِلَافِ مَا حَقُهُ أَنْ يُفْعَلَ جو کام جس طور پر کرنا چاہیے اس طرح نہ کرنا تو لا يَجْعَل کے معنی ہیں کہ رمضان میں حسنِ عمل کی طرف خاص طور پر متوجہ ہونا چاہیے یعنی جو اعمالِ صالحہ کا حق ہے وہ ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اسی لئے رمضان کے ساتھ صرف بھوکا رہنے یا پیاسا رہنے یا بعض دیگر پابندیوں کو بجالانے کا ہی حکم نہیں بلکہ سارے نیک اعمال کرنے کی طرف انسان کو توجہ دلائی گئی ہے اور یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ تمہاری زندگی اور تمہاری بقا کے لئے جو ضرور تیں ہو سکتی تھیں ان کو پورا کرنے کے سامان کر دئے گئے ہیں اب تمہارا کام ہے کہ تم ان سے فائدہ اُٹھاؤ اور ایک صراط مستقیم پر تمہیں چلا دیا گیا ہے۔یہ صراط مستقیم اعمال صالحہ کا ہے تم اس صراط مستقیم پر چلتے رہو جہالت سے کام نہ لینا۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہیں مشک وغیرہ کی خوشبو بہت پسند ہے اسی لئے ہم نے یہ حکم دیا ہے کہ جمعہ کے موقع پر یا عید کے موقع پر یا دوسرے اجتماعوں میں مشک اور دوسری خوشبوئیں لگا کر آیا کرو تا کہ تمہارے ساتھی ایک قسم کی لذت محسوس کریں تو جتنی مشک کی خوشبو تمہیں اچھی لگتی ہے اس سے زیادہ ہمیں وہ بو محبوب ہے جو محض ہماری رضا کے لئے کھانا چھوڑ نے کے نتیجہ میں بعض دفعہ منہ میں پیدا ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ تو خوشبو اور بد بو ہر دو سے بے نیاز ہے۔نور محض کو جسمانی حواس یا ان حواس سے حاصل ہونے والی لذتوں سے کیا سرو کارلیکن جو شخص اس کی خاطر محض اس کی رضا کے لئے بھوک کو برداشت کرتا ہے اور کھانے پینے کو چھوڑتا ہے اگر اس کے نتیجہ میں بعض ایسی باتیں پیدا ہوتی ہیں جو انسان کو پسند نہیں تو نہ ہوا کریں ہم تو اس کے دل کی کیفیت کو دیکھ کر اس قسم کی بو کو بھی بڑا ہی محبوب سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارے لئے اس شخص نے ایسا کام کیا کہ جس کے نتیجہ میں اس کے منہ میں وقتی طور پر بو پیدا ہوگئی اور ہمیں یہ خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ (روزہ دار کے منہ کی بو ) اس لئے محبوب ہے کہ يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهُوَتَهُ مِنْ أَجْلِيْ اس نے محض ہماری خاطر کھانے کو چھوڑا اور پینا چھوڑا اور اپنی شہوت کو چھوڑا الصّيام لي روزہ میرے لئے ہ وانا اجزی بہ اس فقرہ کے معنی بعض بزرگوں نے یہ بھی کئے ہیں کہ دنیا نے غیر اللہ کے لئے کبھی روزے نہیں رکھے۔دنیا نے غیر اللہ کو سجدہ بھی کیا ان کے لئے مالی قربانیاں بھی دیں