خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 987 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 987

خطبات ناصر جلد اوّل ۹۸۷ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۶۷ء صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ - وَالَّذِى نَفْسِي بِيَدِهِ لَخَلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ ريحِ الْمِسْكِ يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجَلِي وَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِئُ بِهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا - ی بھی بخاری کی حدیث ہے۔اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ماہ رمضان اور اس کے روزے بطور ڈھال کے تمہارے لئے بنائے گئے ہیں اور اگر تم روزے کی روح اور اس کی حقیقت کو سمجھو تو شیطانی حملوں سے تم خود کو محفوظ کر سکتے ہو اس لئے ضروری ہے کہ تمہاری زبان پر کسی قسم کا مخش نہ آئے شہوت کو ابھارنے والی باتیں نہ آئیں اور لَا يَجْهَل یہ بھی ضروری ہے کہ انسان جھل سے کام نہ لے۔جھل کے تین معنی ہیں اور تینوں یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔ایک معنی تو اس کے یہ ہیں کہ انسان علم سے خالی ہو یعنی اس کے معنی عدم علم کے ہیں۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم کا سمندر قرآن کریم میں ہے رمضان میں کثرت تلاوت کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں جیسا کہ دوسری جگہ آتا ہے اور یہی میری سنت اور یہی حضرت جبرئیل علیہ السلام کی سنت ہے کیونکہ ہر رمضان میں وہ پورے قرآن کریم کا دور آپ سے کیا کرتے تھے۔تو علم کے سمندر کا تمہیں پتہ دیا گیا اور اس سمندر میں غوطہ لگانے کے سامان تمہارے لئے مہیا کئے گئے اس لئے تم چوکس اور ہوشیار رہنا کہ کہیں اس موقع کو کھو نہ دو اس لئے روزہ دار کے لئے ضروری ہے لا يَجْهَلُ کہ اپنے اندر جہالت باقی نہ رہنے دے کیونکہ علم کے دروازے اس کے لئے کھولے گئے ہیں اور علم کے نور سے منور ہونے کی راہیں اسے بتائی گئی ہیں۔دوسرے جھل کے معنی غلط اعتقاد کے ہیں۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کریم چونکہ کامل اور مکمل کتاب ہے جو شخص اسے سمجھتا اور اس کی حکمتوں کو جاننے کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ تمام اعتقادات صحیحہ پر عبور حاصل کر سکتا ہے۔تو یہ موقع جب تمہیں دیا جاتا ہے کہ تم ہر قسم کے غلط اعتقاد کو اپنے ذہنوں اور دلوں سے نکال کر باہر پھینک دو تو اس موقع سے فائدہ اٹھاوَلا يَجْهَل ایک مومن روزہ دار کو چاہیے کہ صحیح اعتقادات کے حصول کے لئے پوری پوری کوشش کرے اور قرآن کریم سے پورا پورا فائدہ اٹھائے اس سے بے اعتنائی نہ برتے۔