خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 82
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۲ خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۶۶ء میں بھی بتا رہا ہوں کہ افریقہ میں علاوہ اور سکیموں اور منصوبوں کے کہ جو وہاں اس وقت نافذ کئے جانے ضروری ہیں۔ہمیں ان دونوں ملکوں کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے اور خدا تعالیٰ نے چاہا تو ہم بہت جلدی وہاں اچھے نتائج نکلنے کی امید کرتے ہیں۔پس جہاں تحریک جدید سال نو کے لئے ایک منصوبہ تیار کرے گی وہاں میں جماعت کو بھی آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ کاغذی منصوبہ بندی کوئی اچھا نتیجہ پیدا نہیں کیا کرتی۔اگر ہم نے غور کرنے کے بعد یہ سمجھا کہ ان دو ملکوں میں ہیں یا تیس مبلغ ، ڈاکٹر اور استاد بھجوانے ضروری ہیں تو آپ کا فرض ہو گا کہ ہمیں اتنی تعداد میں مناسب آدمی مہیا کریں۔میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر وقف کی ایک عام تحریک کی تھی اور خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ دوست مختلف رنگوں میں بڑی کثرت سے زندگیاں وقف کر رہے ہیں اور بعض دوستوں نے مجھے اس سلسلہ میں بڑے ضروری اور مفید مشورے بھی دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں جزاء دے بہر حال ہمیں عنقریب کام کرنے والوں کی ایک کثیر تعداد کی ضرورت پڑنے والی ہے اور جماعت کے مستعد، مخلص اور خوش قسمت نو جوانوں کو اپنی اپنی جگہ اس پیشکش کے لئے تیار رہنا چاہیے تا جب ہم ضرورت پڑنے پر آواز دیں تو یہ نہ ہو کہ دنیا کی نگاہ میں بھی اور اپنے دلوں میں بھی ہم ایک مضحکہ خیز حرکت کرنے والے ثابت ہوں اور دنیا یہ خیال کر کے کہ ہم کاغذی منصوبے بنا رہے ہیں اور قوم وہ قربانیاں دینے کے لئے تیار نہیں جو ان منصوبہ بندیوں کے نتیجہ میں اسے دینی ضروری ہیں۔غرض اس وقت بہت جلد افریقہ میں اسلام کی جڑوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آئندہ زمانہ میں اس نے بین الاقوامی سیاست میں بھی ایک اہم کردار ادا کرنا ہے۔اس وقت مسلم ممالک میں یا اسلام کی طرف منسوب ہونے والی مختلف حکومتوں میں بسنے والے لوگوں پر اکثر جگہ جو مظالم ہورہے ہیں ان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں اسلام کی آواز میں اتنی طاقت نہیں رہی جو مسلمانوں کو ان مظالم سے بچانے اور انصاف کے حصول کے لئے ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر رحم کرے۔ان کی آنکھیں کھولے اور ان کی ان راستوں کی طرف رہنمائی کرے جن پر چلے بغیر وہ اپنے مستقبل کو روشن نہیں کر سکتے کیونکہ محض اسلام کا لیبل لگا لینا نے ہی کافی نہیں۔بلکہ ضروری ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی اس آواز پر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام