خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 80
خطبات ناصر جلد اول ۸۰ خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۶۶ء پلان (Plan) کے مطابق ہو رہی ہو تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے نتائج ان اعمال کے مقابلہ میں بہت اچھے نکلتے ہیں جو غیر منظم طور پر اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے کئے جاتے ہیں۔میرے ایک پیارے عزیز نے میری توجہ حضرت مصلح موعود (رضی اللہ عنہ ) کے ۱۹۵۲ء کے پہلے خطبہ جمعہ کی طرف مبذول کرائی ہے جس میں حضور نے جماعت اور جماعتی اداروں کو ایک منظم جد و جہد اور منصوبہ بندی کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ کسی منصوبہ بندی کے بغیر اور اپنی کوششوں کو منظم کرنے کے بغیر ہم اپنی کامیابیوں کی رفتار کو تیز سے تیز تر نہیں کر سکتے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے کاموں کو اس طرح منظم کرنے کی کوشش کریں کہ جماعت کی طاقت کا ایک ذرہ بھی ضائع نہ ہو بلکہ ہمارے سامنے ایک وقتی مقصد اور او بجیکٹ (Object) ہو جسے ہم معین وقت میں حاصل کرنے کی کوشش کریں۔لمبے وقت کے لئے تو یہ صحیح ہے کہ ہمارا مقصد حیات اور سلسلہ احمدیہ کے قیام کی غرض ہی یہ ہے کہ طاغوتی اور شیطانی طاقتوں پر غلبہ حاصل کیا جائے اس غرض کے لئے ایک لمبے عرصہ تک جدو جہد کی ضرورت ہے۔ہوسکتا ہے کہ اس میں ۸۰ سال لگ جائیں۔۱۰۰ سال لگ جائیں۔۱۵۰ سال لگ جائیں۔دوسو سال لگ جائیں یا خدا جانے کتنا عرصہ لگ جائے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی عقل و دماغ اور تصور اس لمبے زمانہ کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے بعض چھوٹے چھوٹے منصوبے بنا لیتے ہیں۔یعنی وہ تجویز کر لیتے ہیں کہ مثلاً اس سال میں ہم اپنے مقصد کا اتنا حصہ ضرور حاصل کر لیں گے اور پھر اس کے حصول کے لئے وہ اپنی پوری کوشش صرف کر دیتے ہیں اور پھر اس سال جس حد تک وہ اپنے مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل کر لیں اگلے سال وہ زیادہ تیزی کے ساتھ آگے قدم بڑھانے کے قابل ہو جاتے ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۵۲ء میں بھی اور اس کے علاوہ اور مواقع پر بھی جماعت کو بار بار نصیحت فرمائی ہے کہ وہ اپنے کاموں میں تنظیم پیدا کرے۔انہیں منظم شکل دے اور انہیں کسی منصوبہ بندی اور پلاننگ (Planning) کے مطابق کرے ورنہ ہماری رفتار ترقی کبھی تیز نہیں ہوسکتی سوحضور کی اس تاکیدی نصیحت کے ساتھ آج میں اپنے بھائیوں کو سالِ نو کی مبارک باد دیتا ہوں