خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 79
خطبات ناصر جلد اول ۷۹ خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۶۶ء اعمالِ صالحہ کے بجالانے کی توفیق دیتا چلا جائے کہ جن کے نتیجہ میں (اگر اور جب وہ انہیں قبول کر لیتا ہے تو ) اس کی نعمتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں۔یہ اعمالِ صالحہ ( یا خدا تعالیٰ کو محبوب اور مرغوب اعمال ) دو قسم کے ہیں۔ایک اعمال صالحہ تو وہ ہیں جو ہم انفرادی طور پر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بجا لاتے ہیں۔ہم نمازوں کو ادا کرتے ہیں۔ہم رات کی تنہائی اور خاموشی میں اپنے رب کے حضور عجز اور انکسار کے ساتھ جھکتے ہیں اور اس سے اپنے مطالب کے حصول کے لئے دعائیں مانگتے ہیں۔اسی طرح سینکڑوں اور اعمال ہیں جن کا ہماری ذات کے ساتھ تعلق ہے ہم تقویٰ کی بار یک راہوں کی تلاش میں بعض کام کرتے ہیں یا بعض کو چھوڑ دیتے ہیں ایسے اعمالِ صالحہ ایک فرد کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں لیکن کچھ اعمال صالحہ اجتماعی حیثیت کے ہوتے ہیں۔یعنی تمام جماعت کو کچھ کوششیں ایسی کرنی پڑتی ہیں کہ جن کے بغیر الہی جماعتیں اور الہی سلسلے اپنے مطالب اور مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔یہ ساری جد و جہد بنیادی طور پر شیطان اس کے وسوسوں اور اس کے پھیلائے ہوئے باطل عقائد کے خلاف ہوتی ہے لیکن اس دنیا میں وہ مختلف شکلیں اختیار کرتی اور مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتی ہے۔اسی وقت شیطان دجل کی شکل میں حق کے خلاف نبرد آزما ہے اور جماعت احمد یہ جو روحانی جنگ لڑ رہی ہے وہ شیطان کے مقابلہ میں ہی لڑی جارہی ہے۔اس جنگ کو الہی نوشتوں میں حق و باطل کی آخری جنگ قرار دیا گیا ہے اور اس میں فتح حاصل کر لینے کے بعد اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے گا اور اللہ تعالیٰ کی توحید تمام بنی نوع انسان میں پھیل جائے گی اور دنیا کے تمام ملک اور اقوام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار ہو جائیں گی۔غرض یہ میدان ہے جس میں ہماری جد و جہد جاری ہے لیکن ہمارے وسائل اور اسباب بہت محدود ہیں اور ہمارے مقابلہ میں دنیا کے اسباب اور طاغوتی طاقتیں بہت زیادہ اور دنیوی نقطہ نگاہ سے بہت بھاری ہیں ہاں اللہ تعالیٰ نے ہماری حقیر کوششوں میں جہاں اپنے فضل سے پہلے ہی برکت رکھ دی ہے وہاں اس نے ہمیں یہ گر بھی سکھایا ہے کہ اگر کسی طاقت کو جو کمزور ہے صحیح طور پر کام میں لایا جائے۔پھر کوشش میں ایک تنظیم ہو اور جدو جہد منظم رنگ رکھتی ہے اور کسی منصوبہ بندی اور