خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 929
خطبات ناصر جلد اول ۹۲۹ خطبه جمعه ۱۳/اکتوبر ۱۹۶۷ء۔میں کچھ سیاسی پریشانیاں پائی جاتی ہیں ممکن ہے اس کا اثر ہو یا ہمارے مبلغوں نے اس کی طرف پوری توجہ نہ دی ہو والله اعلم لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ ذمہ دار کارکن اس طرف توجہ دیں گے اور عملاً دو سال جو باقی رہ گئے ہیں تین سال میں سے ان دو سالوں میں وہ اتنی وصولی کر دیں گے کہ بیرون پاکستان کی وصولی پندرہ لاکھ روپیہ سے کم نہ رہے بلکہ اس سے زیادہ ہو جائے۔اس طرح پر چالیس لاکھ کے قریب یا چالیس لاکھ سے اوپر یہ فنڈ بن جائے گا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے وعدوں کے لئے جدو جہد اور کوشش کا زمانہ ختم ہو گیا۔وصولی کی طرف ہمیں متوجہ ہونا چاہیے اور کوشش یہ کرنی چاہیے کہ دوسرے سال میں ایک تہائی نہیں بلکہ جو بقیہ رقم ہے اس کا ۳/۵ جس کو پنجابی زبان میں پینچ دو نجی کہتے ہیں وہ رقم وصول ہو جائے اور تیسرے سال صرف ۲/۵ کی وصولی کی کوشش کی ضرورت باقی رہے۔ہمارا تعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عارضی تعلق نہیں کہ زمانہ اس کو بھلا دے یا آپ کی یاد کو دھند لا کر دے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے جماعت پر بحیثیت جماعت اور لاکھوں افراد جماعت پر بحیثیت افراد اپنے زمانہ خلافت میں احسان کی بڑی توفیق ملتی رہی ہے ان احسانوں کو جماعت کے دلوں سے زمانہ فراموش نہیں کر سکتا تو جس محبت کے تقاضا سے مجبور ہو کر ہم نے اس فنڈ کو کھولا تھا۔اس کے لئے وعدے لکھوائے تھے اور یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم کم از کم ایک تہائی ہر سال ضرور ادا کرتے چلے جائیں گے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اس وعدہ میں کوئی کمزوری واقع نہیں ہوگی اس لئے فضل عمر فاؤنڈیشن کے جو کارکن ہیں انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ محبت کے سرچشمہ سے فضل عمر فاؤنڈیشن کی نہر نکلی ہے اور وہ محبت جس وجہ سے پیدا ہوئی وہ عارضی وجہ نہیں تھی بلکہ اس احسان کی وجہ سے جس کی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے اللہ سے توفیق پائی ایک احمدی کے دل کو آپ کی یاد سے ایک مستقل تعلق پیدا ہو چکا ہے پس وہ گھبرائیں تو نہ لیکن کوشش ضرور جاری رکھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی سکھایا ہے ذکر فان الذكرى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ - (الدريت : ۵۶) اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اگر مومنوں کو یاد دہانی کرائی جانے کی ضرورت