خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 923
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۲۳ خطبہ جمعہ ۲۹؍ستمبر ۱۹۶۷ء چاہتے ہیں جن کا مشاہدہ ساری جماعت نے میرے سفر یورپ کے دوران کیا اور اس امید اور یقین اور وثوق کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے شکر کو پیش کریں کہ جو حقیقی معنی میں خدا تعالیٰ کے حضور شکر کے سجدے بجالاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے لئے زیادتی کے سامان پیدا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں کو ہم نے اپنے اوپر نازل ہوتے دیکھا ہے اور اب ہمیں کثرت بارانِ رحمت کا چسکہ پڑ چکا ہے جس کے بغیر ہمارے لئے سیر ہو نا ممکن نہیں اس غرض سے کہ بارانِ رحمت کثرت سے ہم پر نازل ہوتی رہے ایثار اور قربانی کی ہر راہ کو ہمیں اختیار کرنا چاہیے۔ایک راہ بطور شکر کے جلسہ سالانہ میں کثرت سے شمولیت ہے۔پس احباب جماعت کو چاہیے کہ پہلے سالوں کی نسبت زیادہ تعداد میں وہ جلسہ پر آئیں۔یہ دعائیں کرتے آئیں کہ پہلے سالوں کی نسبت زیادہ دعاؤں کی اللہ تعالیٰ انہیں تو فیق عطا کرے اس امید اور توقع سے آئیں کہ پہلے سالوں کی نسبت اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو زیادہ قبول کرے گا اور وہ اپنے رب کی رحمتوں کے پہلے سے زیادہ نشان دیکھیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں واقعی ایسا بنادے۔وَاخِرُ دَعُونَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ روزنامه الفضل ربوه ۱۷ نومبر ۱۹۶۷ صفحه ۲ تا ۶)