خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 914
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۱۴ خطبہ جمعہ ۲۹؍ستمبر ۱۹۶۷ء ایک نسل کا کام نہیں۔اس وقت بھی ہماری اکثریت تابعین کی ہے یعنی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا نہیں۔دیکھنے والے تو بہت تھوڑے رہ گئے ہیں لیکن صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھنے والے کثرت کے ساتھ اس وقت جماعت احمدیہ میں ہیں تو احمدیت کے لحاظ سے آئندہ نسل احمدیت کی تیسری نسل ہے اور ابھی ہم کامیابی کی راہوں پر چل رہے ہیں۔اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچے اور نہیں کہا جا سکتا کہ کب ہم اپنی منزل مقصود تک پہنچیں گے۔میں نے بڑا غور کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہم پر جو دوسری نسل احمدیت کی اس وقت ہے اور ہماری اگلی نسل پر جو اس وقت بچے ہیں۔ان دونسلوں پر قربانیاں دینے کی انتہائی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ہم ایک ایسے زمانہ میں داخل ہو چکے ہیں جس میں ترقی اسلام کے لئے جو مہم جاری کی گئی ہے وہ اپنے انتہائی نازک دور میں داخل ہو چکی ہے اور ہمیں اور آنے والی نسل کو انتہائی قربانیاں دینی پڑیں گی تب ہمیں اللہ تعالیٰ وہ عظیم فتوحات عطا کرے گا جس کا اس نے ہم سے وعدہ کیا ہے۔پس ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کے دلوں میں بھی اس احساس کو زندہ کریں اور زندہ رکھیں کہ عظیم فتوحات کے دروازے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے کھول رکھے ہیں اوران دروازوں میں داخل ہونے کے لئے عظیم قربانیاں انہیں دینی پڑیں گی اور ان سے ہم ایسے کام کرواتے رہیں کہ ان کو ہر آن اور ہر وقت یہ احساس رہے کہ غلبہ اسلام کی جو مہم اللہ تعالیٰ نے جاری کی ہے اس میں ہمارا بھی حصہ ہے ہم نے بھی کچھ کنٹری بیوٹ کیا ہے ہم نے بھی اس کے لئے کچھ قربانیاں دی ہیں۔ہم بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ویسے ہی امیدوار ہیں جیسا کہ ہمارے بڑے ہیں اس کے لئے میں نے علاوہ اور تدابیر کے جو ذہن میں آتی رہیں یا جو پہلے سے ہماری جماعت میں جاری ہیں یہ تحریک کی تھی کہ ہمارے بچے وقف جدید کا مالی بوجھ اٹھا ئیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت کے سارے بچے اور وہ ماں باپ جن کا ان بچوں سے تعلق ہے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اس بات کو اچھی طرح جاننے لگیں کہ جب تک بچے کو عملی تربیت نہیں دی جائے گی اللہ تعالیٰ کی فوج کا وہ سپاہی نہیں بن سکے گا اگر وہ دین کے لئے ابھی سے ان سے قربانیاں لیں تو یہ نسل اللہ تعالیٰ کے فضل سے پوری طرح تربیت یافتہ ہوگی اور جب ان کے کندھوں پر جماعت کے کاموں کا