خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 887 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 887

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۸۷ خطبہ جمعہ ۱۵ ر ستمبر ۱۹۶۷ء اور وہ اچھی خاصی تین چار منٹ کی ٹیلی ویژن ہے، اس کو دو دفعہ دکھانے سے نتیجہ ہم یہ نکالتے ہیں کہ ان کو دلچسپی تھی تبھی تو دوسری دفعہ دکھائی گئی ورنہ کبھی ایسا پروگرام دوبارہ نہ دکھاتے جس پر کچھ اعتراض ہو اور ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ اور بہت سے ملکوں میں بھی ٹیلی ویژن کی یہ ریل دکھائی جائے گی تو کتنا بڑا فضل اور احسان ہے اللہ کا کہ اخبار کے ذریعہ اور براڈ کاسٹنگ کے ذریعہ، ٹیلی ویژن کے ذریعہ کروڑوں آدمیوں کے کان تک یہ آواز پہنچ گئی کہ خدائے واحد پر ایمان لاؤ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھنڈے سایہ تلے آکر جمع ہو جاؤ ورنہ ہلاکت تمہارے سروں پر منڈلا رہی ہے اور اس عاجز بندہ کی شکل انہوں نے دیکھی اور اس کی زبان سے نکلتے ہوئے الفاظ انہوں نے سن لئے خدا تعالیٰ کے ایک نمائندہ کی حیثیت سے۔تو کروڑوں آدمیوں تک چند ہفتوں کے اندر یہ پیغام پہنچا دینا یہ آسان کام نہیں ہے، الہی تصرف کے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے تصرف کیا ان کے دلوں پر بھی ، ان کی قلموں پر بھی اور ان کی فضا پر بھی اور وہ مجبور ہو جاتے تھے۔وہ دشمن ہیں اور ان کی دشمنی بھی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے ٹیلی ویژن کے لئے ان کو سوال تو ایسا منتخب کرنا چاہیے تھا کہ جو طبیعت پر اثر نہ کرے لیکن ہوتا اس سے الٹ ہے۔پہلا ٹیلی ویژن آیاز یورک میں، یہ پہلا موقع تھا تین آدمیوں کے سامنے جن میں سے دومرد تھے ایک عورت تھی۔وہ عورت مجھے کہنے لگی کہ میں پہلے سوال و جواب کر لیتی ہوں تا کہ ہم انتخاب کر لیں کہ کون سے سوال و جواب ہم ٹیلی ویژن پر لائیں گے پروگرام چھوٹا ہے میں سوال زیادہ لکھ کے لائی ہوں تین منٹ کا پروگرام تھا میں نے کہا ٹھیک ہے اس نے جہاں اور سوال کئے ایک سوال یہ بھی کیا کہ آپ ہمارے ملک میں اسلام کو پھیلائیں گے کیسے؟؟؟ فوراً میں نے جواب دیا ”دلوں کو فتح کر کے“۔اتنی خوش ہوئی وہ کہ کہنے لگی میں یہ فقرہ ضرور ٹیلی ویژن پر لانا چاہتی ہوں میں یہ سوال کروں ! میں نے کہا ٹھیک ہے۔تم سوال کرنا میں جواب دوں گا۔آگے لطیفہ یہ ہوا کہ کوپن ہیگن کی پریس کا نفرنس میں کسی نے پھر یہی سوال کیا ، میں نے کہا ز یورک میں بھی یہ سوال کیا گیا تھا، جو جواب میں نے وہاں دیا ، وہی جواب میں یہاں دیتا ہوں کہ دلوں کو فتح کر کے۔اس کا نفرنس میں ایک دو عورتیں بھی تھیں نمائندہ