خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 840
خطبات ناصر جلد اول ۸۴۰ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء حقارت کا کوئی جذبہ نہیں اور اگر ہم یہاں اس کمرہ میں اس قسم کی فضا پیدا کر سکتے ہیں تو ساری دنیا میں بھی پیدا کر سکتے ہیں۔دوسرے دن اس نے اخبار میں بڑا اچھا نوٹ دے دیا ہمیں یہ خیال بھی نہیں تھا کہ اس قسم کا نوٹ اخبار میں آجائے گا ٹائمز کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ اگر اس میں کوئی چیز چھپ جائے تو اس کے متعلق یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ انگلستان کے سارے پریس میں وہ چیز آگئی بہر حال وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اعلاء کلمۃ اللہ کے سامان پیدا کر دیئے۔پھر کراچی میں انٹرویو ہوا یہ لوگ اپنے رنگ کے ہیں یہ لوگ بار بار مجھ سے سیاسی سوال کر دیتے تھے اور بار بار مجھے یہ کہنا پڑتا تھا کہ میں کسی سیاسی سوال کا جواب نہیں دوں گا ویسے سب ہی اچھے تھے انہیں یہی اچھا معلوم ہوتا تھا کہ میں ان سے سیاسی گفتگو کروں ہر ایک کا اپنا اپنا خیال ہوتا ہے لیکن یہاں بھی اخبارات میں اچھے نوٹ آگئے تھے۔ان پریس کانفرنسز سے میری کوئی ذاتی غرض وابستہ نہ تھی میں نے صرف یہی مقصد اپنے سامنے رکھا تھا کہ ان لوگوں کو جھنجھوڑا جائے اور اسلام کے عالمگیر غلبہ کا آسمانوں پر جو فیصلہ ہو چکا ہے اس حقیقت کی طرف انہیں متوجہ کیا جائے اور یہ غرض اخباروں کے تعاون سے پوری ہوگئی اور یہ مقصد ہمیں حاصل ہو گیا۔ساری قوم کو انتباہ کر دیا گیا اس لحاظ سے کہ اکثریت کے کانوں میں یہ آواز پہنچ گئی اور یہ بات ان کے ذہن نشین کر دی گئی کہ ہمیں ایک انتباہ دیا گیا ہے اور ایک وارننگ دینے والے نے ہمیں وارننگ دے دی ہے۔جس تیز مضمون کے متعلق میں نے پہلے بیان کیا ہے اس کے متعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہم لندن گئے تو ہمیں ایک ریسپشن دی گئی جس میں تین سو آدمیوں نے شامل ہو نا تھا۔گو یدری سپشن جماعت کی طرف سے تھی لیکن اس میں اس علاقہ کے مئیر بھی مدعو تھے جس میں ہماری مسجد ہے ایک ایم پی تھے، پاکستان ایسوسی ایشن کے پریذیڈنٹ تھے اور بعض دوسرے انگریز بھی تھے اور یہ سب کوئی تیس چالیس آدمی تھے میں نے سوچا کہ میں نے اپنی محنت سے تو یہ مضمون تیار نہیں کیا بلکہ یہ آمد تھی اور میرے رب کی عطا۔اس لئے اس کا جو مقصد تھا وہ پورا ہونا چاہیے اور یہی وہ جگہ ہے کہ جہاں یہ مقصد پورا ہو سکتا ہے اس کے بعد مجھے اور کوئی موقعہ نہیں ملے گا۔چنانچہ