خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 839 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 839

خطبات ناصر جلد اول ۸۳۹ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء ایک مقامی اخبار نے امام رفیق ( مسجد لنڈن کے امام ) کو فون کیا اور کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں جو ہمارے علاقہ میں ٹھہرے ہوئے ہیں یہاں تو ایک ہنگامہ بپا ہے کہ مقامی اخبار نے کچھ لکھا نہیں اور لوگ حیران ہیں آخر انہیں پتہ لگنا چاہیے کہ یہ کون ہیں چنانچہ امام رفیق نے اسے بتایا اور اس نے اگلے روز ایک خبر شائع کر دی۔ابھی ہم ونڈ ر مئیر میں ہی تھے کہ ہمیں وہاں ایک پیغام ملا کہ ٹائمز لنڈن پیشل انٹرویو لینا چاہتا ہے میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن وقت ہم وہاں مقرر کریں گے۔ٹائمز لنڈن چوٹی کے اخباروں میں سے ہے دوست یہ نہ سمجھیں کہ میں چھوٹی چھوٹی باتوں کا ذکر کر رہا ہوں میرے نزدیک یہ باتیں بڑی اہم ہیں کیونکہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ہاتھ نظر آتا ہے ٹائمز لنڈن کا جو نو جوان نمائندہ انٹرویو لینے آیا اس نے مجھے بتایا کہ وہ آسٹریلیا کا رہنے والا ہے لندن کا رہنے والا نہیں اور وہ صرف چھ ماہ سے یہاں کام کر رہا ہے میں جب آکسفورڈ میں پڑھا کرتا تھا اسوقت میرے بعض گہرے دوست آسٹریلیا کے طالب علم تھے میں نے کہا مجھے تم سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے ویسے تو مجھے ہر ایک سے مل کر خوشی ہوتی ہے لیکن تمہارے ساتھ مل کر اس لئے بھی خوشی ہوئی کہ آسٹریلیا کے بعض طالب علموں سے میری بڑی گہری دوستی تھی اور بڑے لمبے زمانہ کے بعد آج میں ایک آسٹریلین سے مل رہا ہوں۔بہر حال ایک بے تکلفی کا ماحول پیدا ہو گیا وہ نوجوان بڑا عقلمند تھا اور زیرک تھا وہ مجھ سے مختلف باتیں کرتا رہا وہاں پریس کے نمائندے مجھے سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کرتے تھے لیکن یورپ کا پریس بڑا سمجھ دار ہے جب میں نے ان سے کہہ دیا کہ مجھ سے صرف مذہبی باتیں کرو تو وہ اس پر زور نہیں دیتے تھے میں نے اس سے بھی کہا کہ مجھ سے سیاست کی باتیں نہ کرو تو وہ رک گیا میں نے اس کو یہ بھی بتایا کہ اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے نیز مذہب کا تعلق دل سے ہے اور دل کو طاقت کے ذریعہ بدلا نہیں جاسکتا۔مذہب کے نام پر خواہ مخواہ جھگڑنا ہی غیر معقول ہے اب ہم دونوں یہاں بیٹھے ہیں میں ایک مسلمان ہوں اور ایک مذہبی فرقہ کا سر براہ ہوں اور تم ایک عیسائی نوجوان ہو میرے دل میں تمہارے متعلق دشمنی ، نفرت کا یا حقارت کا کوئی جذ بہ نہیں اور مجھے یقین ہے کہ تمہارے دل میں میرے خلاف دشمنی ،نفرت یا