خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 801
خطبات ناصر جلد اول ۸۰۱ خطبه جمعه ۴ /اگست ۱۹۶۷ء دُعا کے ذریعہ ہی مغربی اقوام کو اسلام کی طرف متوجہ کیا جاسکتا ہے خطبه جمعه فرموده ۴ را گست ۱۹۶۷ء بمقام ونڈر میئر لیک ڈسٹرکٹ۔برطانیہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ میری ایک رؤیا کا تعلق اسلام کی ترقی سے ہے میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھڑے ہیں ایک شخص جس کا نام خالد ہے کہتا ہے کہ آپ نام رکھ دیں لیکن یہ یاد نہیں رہا کہ وہ کسی بچے کا نام رکھوانا چاہتا ہے یا کسی بڑے کا یا اپنا نام بدلوانا چاہتا ہے۔میں نے کہا کہ میں ”طارق“ نام رکھتا ہوں۔پھر میں نے کہا کہ طارق نام ہی نہیں دعا بھی ہے اور یہ دعا بہت کرنی چاہیے۔اس خواب کی مجھے یہ تفہیم ہوئی ہے کہ طارق رات کے وقت آنے والے کو کہتے ہیں۔رات کے وقت ملائکہ کا نزول بھی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو صبح صادق کے ظہور سے تعبیر کیا ہے اور طارق کے معنی روشن اور صبح کے وقت طلوع ہونے والے ستارے کے بھی ہیں اور یہ ستارہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ رات گزر گئی ہے اور دن چڑھنے والا ہے۔پس اس خواب کا مطلب یہ ہوا کہ مغربی اقوام جو بظاہر مہذب کہلاتی ہیں لیکن در حقیقت انتہائی غیر مہذب اور گندی زندگی بسر کر رہی ہیں اور بظاہر اسلام کی طرف ان کی توجہ ممکن نظر نہیں آرہی دعا کے ذریعہ ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ