خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 795 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 795

خطبات ناصر جلد اول ۷۹۵ خطبہ جمعہ ۲۸ / جولائی ۱۹۶۷ء اسلام میں احمدیت ایک ایسا قلعہ ہے جس میں داخل ہو کر انسان سب شیطانی حملوں سے بچ جاتا ہے خطبہ جمعہ فرموده ۲۸ / جولائی ۱۹۶۷ء۔بمقام مسجد فضل۔لنڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔انشاء اللہ تعالیٰ میں اپنے بھائیوں سے لمبی گفتگو تو جلسہ سالانہ کی تقریب پر جو یہاں ہوگی کروں گا۔آج میں آپ لوگوں کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہ زمانہ جس میں ہم رہ رہے ہیں نہایت تاریک زمانہ ہے۔یہ براعظم اور اس کا یہ جزیرہ جس میں آپ اور دیگر پاکستانی رہائش پذیر ہیں روحانی طور پر تاریک براعظم ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا ایک فرستادہ دنیا کو یہ نہ بتا تا کہ اس زمانہ کا حصن حصین میں ہی ہوں۔“ اور جس کی آمد سے دنیا کا یہ مضبوط قلعہ شیطان کے وساوس سے بچنے کی وجہ سے قہر الہی سے محفوظ رہا ) تو یہ دنیا آج مر چکی ہوتی۔خدا تعالیٰ نے جو بندوں سے پیار کرنے والا ہے اس دنیا کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے اپنے ایک بندے کو اس کی طرف مبعوث فرما یا اور اس دنیا کو ایک حصن حصین، ایک قلعہ بنادیا جس میں تمام دنیا کو پنا مل سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام جس کا کچھ حصہ یوں ہے۔(الفاظ مجھے پوری طرح یاد نہیں ) ” محمد رسول اللہ پناہ گزیں ہوئے قلعہ ہند میں۔“