خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 786 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 786

خطبات ناصر جلد اوّل ZAY خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۶۷ء کے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمائی ہے اس سے باہر تباہی ہی تباہی ہے۔پس اس سفر کے متعلق نئی اور پرانی بہت سی خوا ہیں دوستوں نے دیکھیں اور مجھے لکھیں۔انجام کے لحاظ سے تو ساری مبشر ہیں ویسے بڑی مبشر خوا میں ہیں بعض لیکن بہت سی خوابوں میں بعض پریشانیوں کی طرف بھی اشارہ ہے سفر کی پریشانیاں۔اللہ تعالیٰ جو اس بات پر قادر ہے کہ وقت سے پہلے ان پریشانیوں کی خبر دے دے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ ہماری دعاؤں کے نتیجہ میں اور اپنی رحمت کو جوش میں لا کے ان پریشانیوں کو دور کر دے تو دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ پریشانیوں سے تو بچائے اور جو بشارت کی باتیں ہیں جو خوشخبریاں ہیں ان کو پورا کرے۔ایسا نہ ہو کہ ہماری کسی غفلت یا کوتاہی کے نتیجہ میں ان میں کوئی روک پیدا ہو جائے۔میں نے خود ایک بڑی تفصیلی خواب دیکھی ہے وہ چند روز کی بات ہے بڑی مبشر خواب ہے مختصراً بتا دیتا ہوں۔ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔پہلے ہی دیر ہو چکی ہے میں نے دیکھا کہ ہم قادیان میں ہیں اور مجھے اور منصورہ بیگم ( جو میری بیگم ہیں ) ان کو عرفانی صاحب کے گھر کسی تقریب پر بلایا گیا ہے اور جب ہم وہاں پہنچے ہیں تو وہی گلی جو ہماری آنکھوں کے سامنے گلیاں پھرتی رہتی ہیں قادیان کی اسی گلی میں سے گزرے ہیں جو ماتھا ہے گلی کی طرف عرفانی صاحب کے گھر کا وہ بھی وہی ہے جو ہم نے دیکھا تھا لیکن جس وقت ہم اندر داخل ہوئے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک بہت بڑا حلقہ ہے جس کا دروازہ جو ہے اندر داخل ہونے کے لئے وہ بھی قریباً اتنا بڑا ہے جتنی یہ مسجد اور دومنزلہ او پر تک گیا ہوا ہے۔دونوں طرف اس کے کمروں کی قطار ہے اور جہاں وہ ختم ہوتے ہیں وہاں ہماری حویلیاں، چاروں طرف کمرے ہوتے ہیں۔تو جو مجھے نظارہ نظر آیا اس سے ایک کمرہ پھر دونوطرف ایک ایک کمرہ وہاں بھی ہے اور سامنے ایک اونچی جگہ ہے سبز گھاس سے ڈھکی ہوئی اور ساری اس تقریب کا انتظام وہاں ہے اور ہمیں وہ لے گئے ہیں اور سب سے اونچی جگہ جو اس قلعہ کے اندر کی دیوار کی طرف منہ کر کے ایک کا وچ بچھا ہوا ہے اس کے اوپر جا کے بٹھا دیا ہم دونوں کو اور اس وقت میں نے دیکھا کہ سامنے کی دیوار جو اندازے کے مطابق شاید دوسو یا تین سوفٹ ہو گی جس کا ہال ہی اتنا بڑا تھا دا خلے کا اندازہ کر سکتے ہیں آپ۔اتنی خوبصورتی کے ساتھ سجائی ہوئی ہے کہ